ریاض، سعودی عرب نے پانچ سال بعد لبنان سے درآمدات پر عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سعودی حکام کے مطابق یہ فیصلہ ولی عہد محمد بن سلمان کی ہدایت پر کیا گیا جبکہ اس حوالے سے لبنانی صدر جوزف عون اور وزیراعظم نواز سلام کی درخواست کو بھی مدنظر رکھا گیا۔
یاد رہے کہ 2021 میں لبنان کے اُس وقت کے وزیر اطلاعات جارج قرداحی کے یمن جنگ سے متعلق متنازع بیان کے بعد سعودی عرب اور لبنان کے درمیان سفارتی تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی تھی، جس کے نتیجے میں لبنانی درآمدات پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔
سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ لبنانی ریاستی اداروں کی بحالی، داخلی استحکام اور مختلف شعبوں میں اصلاحات کے لیے مثبت اقدامات کیے گئے ہیں۔
گزشتہ ایک سال کے دوران دونوں ممالک کی متعلقہ ٹیموں کے درمیان ہونے والی پیش رفت اور بیروت کی جانب سے فراہم کی گئی یقین دہانیوں کو بھی فیصلے میں اہمیت دی گئی۔
امریکی صدر کی آج بھی ایران پر شدید حملوں کی دھمکی
سعودی بیان میں کہا گیا ہے کہ مملکت کو توقع ہے کہ لبنان اپنی سرزمین کو کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے گا۔
سعودی وزیر خارجہ Faisal bin Farhan Al Saud نے لبنانی وزیراعظم نواز سلام سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے فیصلے سے آگاہ کیا اور لبنان کے استحکام، خودمختاری اور عوامی فلاح کے لیے سعودی حمایت کا اعادہ کیا۔
لبنانی صدر جوزف عون نے سعودی اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کا مظہر قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پابندی کے خاتمے سے لبنان کی معیشت کو براہ راست سہارا ملے گا، برآمد کنندگان کو نئی منڈیاں میسر آئیں گی اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی روابط مزید مستحکم ہوں گے۔
