بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) نے لاکھوں مستحقین کے لیے روایتی کیش ادائیگی کے نظام کو مرحلہ وار ختم کرکے ڈیجیٹل والٹ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت مالی امداد براہِ راست بینک اکاؤنٹس یا موبائل والٹس میں منتقل کی جائے گی۔
پہلے مرحلے میں نقد ادائیگی کا موجودہ طریقہ کار ختم کیا جائے گا، جس سے مستحقین کو لمبی قطاروں اور رقم وصول کرنے کے پیچیدہ عمل سے نجات ملے گی۔ دوسرے مرحلے میں نظام کو مکمل طور پر خودکار بنایا جائے گا، جس کے تحت اہل افراد کو دفاتر کے چکر لگانے، درخواستیں جمع کروانے یا فارم پُر کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
حکام کے مطابق مستحقین کو قومی ڈیٹا بیس کی مدد سے خودکار طور پر بینک یا موبائل والٹ سے منسلک کیا جائے گا اور اس عمل کی تکمیل پر انہیں آگاہ بھی کیا جائے گا۔
تیسرے مرحلے میں مختلف مالیاتی اور ڈیجیٹل سروسز کو نظام کا حصہ بنایا جائے گا، جن میں حبیب بینک لمیٹڈ، بینک الفلاح، بینک آف پنجاب، جازکیش اور ایزی پیسہ شامل ہیں، ہر ضلع کے مستحقین کو مخصوص سروس فراہم کنندہ کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔
چوتھے مرحلے میں ادائیگی کے حصول کے لیے بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہوگی، جس کے بعد مستحقین اپنی امدادی رقم بینک برانچز، اے ٹی ایمز یا مجاز ریٹیل پوائنٹس سے حاصل کر سکیں گے۔
ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور بعض مقامات پر ژالہ باری کی پیشگوئی
پانچویں اور آخری مرحلے میں ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے مزید سہولیات متعارف کرائی جائیں گی، جن میں رقم کی منتقلی، موبائل والٹ کے ذریعے لین دین اور مخصوص دکانوں سے براہِ راست خریداری شامل ہوگی۔
بی آئی ایس پی حکام کے مطابق آئندہ قسط کی ادائیگی کا شیڈول والٹ سسٹم اور سم انٹیگریشن کی مکمل تیاری سے مشروط ہوگا، اسی لیے اگلی ادائیگیوں کے شیڈول کے اعلان کو فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اس وقت تمام تر توجہ ڈیجیٹل والٹ سسٹم کی تیاری اور نفاذ پر مرکوز ہے۔
