ملازمین سے ناروا سلوک، برطانیہ کے امیر ترین بھارتی خاندان کو سزا

Indian Family

جنیوا: سوئس عدالت نے برطانیہ کے امیر ترین بھارتی خاندان کو گھریلو ملازمین سے ناروا سلوک پر قید کی سزا سنا دی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سوئٹزر لینڈ کی عدالت نے ہندوجا خاندان کو انسانی اسمگلنگ کے الزامات سے بری کر دیا ہے تاہم گھریلو ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک پر سزا سنا دی۔

پرکاش ہندوجا اور ان کی اہلیہ کمال ہندوجا کو 4 سال 6 ماہ جبکہ ان کے بیٹے اجے اور ان کی اہلیہ نمریتا کو 4 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں۔

ہندوجا خاندان پر الزام تھا کہ وہ اپنے آبائی ملک بھارت سے 3 افراد کو بطور گھریلو ملازم اپنے جنیوا میں موجود عالیشان مینشن لائے اور سوئٹزرلینڈ پہنچنے پر ان کے پاسپورٹ ضبط کر لیے۔

یہ بھی پڑھیں: شدید گرمی، کویت میں پہلی مرتبہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا اعلان

وکیل استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ ہندوجا فیملی اپنے ملازمین کو انتہائی کم تنخواہ دیتی تھی اور انہیں گھر سے باہر جانے کی بھی اجازت نہیں تھی۔

استغاثہ کے مطابق ملازمین کو 18 گھنٹے کام کرنے کے لیے 8 ڈالر سے بھی سے کم ادائیگی کی گئی جو سوئس قانون کے تحت درکار رقم کے دسویں حصے سے بھی کم ہے۔

مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے الزام لگایا کہ ہندوجا خاندان نے اپنے نوکروں سے زیادہ اپنے کتوں پر خرچ کیا۔

واضح رہے کہ 47 ارب ڈالر کی مالیت رکھنے والے ہندوجا گروپ کے تیل، گیس، بینکنگ اور ہیلتھ کیئر کے شعبے میں سرمایہ کاری کے ساتھ 38 ممالک میں دفاتر موجود ہیں جہاں تقریباً 2 لاکھ افراد ان کے لیے کام کرتے ہیں۔


متعلقہ خبریں