پیشہ کے اعتبار سے انجینئر سونم وانگچک ہمالیائی خطے میں پانی کے تحفظ کے منفرد منصوبوں کے باعث عالمی شہرت رکھتے ہیں۔
انہوں نے 1988 میں اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل اینڈ کلچرل موومنٹ آف لدا کی بنیاد رکھی تاکہ روایتی تعلیمی نظام کی خامیوں کو دور کرتے ہوئے ہمالیائی علاقوں میں بہتر تعلیم کو فروغ دیا جا سکے۔
فلم دھرندر کی اداکارہ عائشہ خان کو طلبہ احتجاج میں شرکت مہنگی پڑ گئی،ویڈیووائرل
بعد ازاں انہوں نے ماحولیاتی جدت کے کئی منصوبے متعارف کرائے، جن میں مصنوعی “آئس اسٹوپا” بھی شامل ہیں۔ یہ مخروطی شکل کے برفانی ذخائر ہیں، جن میں موسم سرما کا پانی محفوظ کیا جاتا ہے تاکہ بہار میں کاشت کاری کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
رامون میگسیسے ایوارڈ فاؤنڈیشن نے 2018 میں سونم وانگچک کو لداخ میں تعلیمی اصلاحات اور پائیدار ترقی کے لیے نمایاں خدمات پر رامون میگسیسے ایوارڈ سے نوازا تھا۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بالی ووڈ اداکار عامر خان کی بلاک بسٹر فلم “تھری ایڈیٹس” میں ان کے کردار “رنچو” کی شخصیت کی تشکیل میں سونم وانگچک کی زندگی اور کام سے متاثر ہو کر عناصر شامل کیے گئے تھے۔
یہ پہلی گرفتاری نہیں
سونم وانگچک گزشتہ سال بھی لداخ میں احتجاجی تحریک کے دوران گرفتار ہوئے تھے اور تقریباً چھ ماہ تک جیل میں رہے۔وہ لداخ کو زیادہ آئینی خودمختاری دلانے کی تحریک کے مرکزی رہنما بن کر ابھرے تھے۔ انہیں گزشتہ سال ستمبر میں حراست میں لیا گیا اور بعد ازاں بھارت کے قومی سلامتی ایکٹ (NSA) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
ان مظاہروں کے دوران چار افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے، جبکہ الجزیرہ نے اسے کئی برسوں میں لداخ کا سب سے خونریز احتجاج قرار دیا تھا۔
طلبہ احتجاج:نصیر الدین شاہ نے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا
بھارتی حکومت نے تشدد کا ذمہ دار وانگچک کی “اشتعال انگیز تقاریر” کو ٹھہرایا، جبکہ وانگچک اس وقت بھی لداخ کو بھارتی آئین کے چھٹے شیڈول میں شامل کرنے، قبائلی حقوق کے تحفظ اور ہمالیائی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے مطالبے پر بھوک ہڑتال کر رہے تھے۔
قومی سلامتی ایکٹ کے تحت کسی بھی شخص کو باضابطہ فردِ جرم عائد کیے بغیر 12 ماہ تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔
بعد ازاں بھارتی وزارتِ داخلہ نے “تمام پہلوؤں پر غور” کے بعد سونم وانگچک کی فوری رہائی کا اعلان کیا۔
لیہ ایپکس باڈی کے وکیل مصطفیٰ حاجی کے مطابق، وانگچک کو راجستھان کے شہر جودھ پور کی جیل سے رہائی دی گئی۔بھارتی وزارتِ داخلہ نے اس موقع پر کہا تھا کہ حکومت لداخ میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ بامعنی مذاکرات جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی میں شمولیت
رہائی کے چند ماہ بعد سونم وانگچک نے کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) میں شمولیت اختیار کر لی، جو نوجوانوں کی ایک طنزیہ سیاسی تحریک ہے۔
یہ جماعت مئی میں اس وقت قائم کی گئی جب بھارت کے چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کی ایک سماعت کے دوران بے روزگار نوجوانوں کو “پیراسائٹس” اور “کاکروچ” قرار دیا تھا۔
سونم وانگچک نے 28 جون کو دہلی کے جنتر منتر پر جاری دھرنے میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی اور صرف نمک ملے پانی پر گزارا کرتے رہے۔
بالی ووڈ کے تینوں خانز کو طلبہ احتجاج پر خاموشی مہنگی پڑ گئی
حال ہی میں ڈاکٹروں نے خبردار کیا کہ مسلسل بھوک ہڑتال کے باعث ان کے اعضا متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ اپوزیشن رہنماؤں اور بالی ووڈ کی کئی شخصیات نے بھی ان کی حمایت کا اعلان کیا۔
وانگچک نے عہد کیا تھا کہ وہ 20 جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ تک “ہر قیمت پر” اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے، تاہم گزشتہ ہفتے پولیس نے انہیں زبردستی اسپتال منتقل کر دیا۔
