مانیں کہ فراڈ عمران خان کے ساتھ ہوا ہے، عدت نکاح کیس میں جج کے ریمارکس

عدت نکاح کیس

دورانِ عدت نکاح کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کے دوران جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تو مانیں فراڈ عمران خان کے ساتھ ہوا ہے، 27 جون سے قبل کیس کا فیصلہ کرنا ہے۔

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں عدت میں نکاح کیس میں اپیلوں پر سماعت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا کر رہے ہیں۔ اس موقع پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ، بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان گِل اور خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز میں خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے سماعت کے بغیر کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا کی۔ جس پر جج افضل مجوکا نے وکیل سے کہا کہ اس کیس کی سماعت ملتوی نہیں ہو سکتی، 25 جون کو مرکزی اپیلوں پر سماعت ہے، تب تک لازمی دلائل فائنل کرنا ہیں۔

زندہ رہا تو 10 دن میں فیصلہ کرونگا، دورانِ عدت نکاح کیس میں جج کے ریمارکس

جج افضل مجوکا نے بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکلاء سے کہا کہ میرے 2 سوالوں کےجواب دے دیں، مجھے سزا معطلی پر مطمئن کر دیں۔ جس پر عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ بولے کہ میں آج اپیلوں پر دلائل دوں گا، وکیل شکایت کنندہ نوٹ کر لیں۔

سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 14 نومبر 2017 کو طلاق ہونے میں فریقین میں کوئی اختلاف نہیں۔ ہمارا یہ مؤقف ہے کہ بشریٰ بی بی کو اپریل 2017 میں طلاق ہوئی، انہوں نے عدت پوری کی پھر نیا نکاح کیا۔ چونکہ ہمیں گواہی نہیں دینے دی گئی اس لیے ہم کہتے ہیں 14 نومبر سے ہی شروع کر لیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قانون کو شرعی اصولوں کے مطابق بھی دیکھنا ہوتا ہے۔ فیملی لاء کے سیکشن 2 آنے اور شریعت اپیلیٹ بینچ کی تشکیل کے بعد ہر کیس کو شرعی اور فقہ کو دیکھنا ہوتا ہے۔ پانچ سال گیارہ ماہ بعد شکایت درج کی گئی، چلے سے واپس آکر یہ خیال آیا۔

خاور مانیکا کے وکیل نے سماعت ملتوی کرنے کی دوبارہ استدعا کرتے ہوئے کہا کہ میں آج دلائل نہیں دے سکتا۔ اس پر وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جو اعلیٰ عدلیہ سے بعد میں فیصلہ آیا اس پر بھی عدالت عمل کرے۔ 1985ء کی آئینی ترمیم کے بعد صورتحال تبدیل ہو گئی ہے۔

بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ 14، 14 گھنٹے 2 روز کھڑے رہے۔ ٹرائل کورٹ نے کہا کہ آج ہی سب کریں، گواہ، دلائل، سب آج کریں، فیصلہ سنانا ہے، رات 12 بجے تک اڈیالہ جیل میں کھڑے رہے، ٹرائل کورٹ کا اعلانِ جنگ تھا کہ 3 فروری کو ہی فیصلہ سنانا ہے۔ آپ نے کبھی کسی وکیل کو کہا ہے کہ رات 11 بجے دلائل دیں؟

سلمان اکرم راجہ بولے کہ خاور مانیکا نے کہا کہ بشریٰ بی بی دنیا کی سب سے شریف خاتون ہیں، خاور مانیکا نے کہا کہ جب بانیٔ پی ٹی آئی کا زندگی میں عمل دخل نہیں تھا تب تک وہ شریف تھیں۔ انہوں نے انٹرویو میں بانی پی ٹی آئی کو دعائیں دیں اور کہا کہ روحانی تعلق تھا۔ شکایت دائر کرنے سے قبل خاور مانیکا 5 سال 11 ماہ خاموش رہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کا عدت کیس کی اپیل کا فیصلہ ایک ماہ میں کرنے کا حکم

انہوں نے کہا کہ خاور مانیکا کو گرفتار کیا گیا، 4 ماہ جیل میں رہے اور 14 نومبر کو جیل سے باہر آئے، 25 نومبر کو شکایت دائر کی، جو لوگ چِلّے پر جاتے ہیں ہمیں معلوم ہے ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ جج افضل مجوکا نے کہا کہ عدالت نے نوٹ کر لیا کہ پریشر کے تحت، تاخیر سے شکایت دائر کی گئی۔

عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ مفتی سعید کا جھوٹ عدالت کے سامنے لانا چاہتا ہوں۔ مفتی سعید کے لیے میرے پاس اور کوئی شائستہ لفظ نہیں، خاور مانیکا سے قبل ہوا میں کہیں نمودار ہونے والے حنیف نامی شہری نے شکایت دائر کی، محمد حنیف کی شکایت میں وہی گواہان تھے جو خاور مانیکا کی شکایت میں تھے۔

دورانِ سماعت جج افضل مجوکا نے سوال کیا کہ خاور مانیکا کو کب معلوم ہوا کہ بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی کا نکاح ہوا؟ جس پر خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے جواب دیا کہ میں خاور مانیکا سے پوچھ کر عدالت کو آگاہ کر دوں گا۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی پر تو کوئی الزام بھی نہیں ہے۔

اس موقع پر جج افضل مجوکا بولے کہ یہ تو مانیں فراڈ عمران خان کے ساتھ ہوا ہے جس پر عدالت میں قہقہے گونجنے لگے۔ جج افضل مجوکا نے کہا کہ 27 جون سے قبل فیصلہ کرنا ہے، اگر کوئی فریق حاضر نہ ہوا تو فیصلہ پھر بھی کروں گا۔

بعد ازاں عدالت نے عدت میں نکاح کیس میں دائر سزا معطلی کی درخواست پر سماعت 25 جون تک ملتوی کر دی۔


متعلقہ خبریں