بجٹ میں 1800 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز عائد


چیئرمین ایف بی آر امجد زبیر ٹوانہ کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کی تاریخ میں بڑی ٹیکس چھوٹ ختم کی گئی ہے۔

وفاقی بجٹ پیش ہونے کے بعد میڈیا بریفنگ دیتے ہوئےانہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف اور ہمارے اہداف ایک جیسے ہوں تو آئی ایم ایف بجٹ میں حرج نہیں،بجٹ میں 1800 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز لگائے گئے ہیں۔

تنخواہوں اور پنشن میں 15 سے 25 فیصد اضافہ، کم از کم اجرت36 ہزار

انکم ٹیکس کی مد میں آئندہ مالی سال 443 ارب روپے کا ٹیکس لگایا گیا ہے،پرسنل انکم ٹیکس کی مد میں 224 ارب روپے کے ٹیکسز لگائے گئے ہیں،سیلز ٹیکس کی مد میں 450 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز لگائے گئے ہیں۔

ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 289 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز لگائے گئےہیں،آئندہ مالی سال میں ایف بی آر 3800 ارب روپے کا ٹیکس جمع کرے گا۔

چیئرمین ایف بی آر نے مزید کہا کہ 2ہزار ارب روپے گروتھ اور عدالتوں میں زیر التوا کیسز میں فیصلوں سے آئیں گے، اگر عدالتوں سے ہمارے حق میں فیصلے نہ آئے تو مزید ٹیکس اقدامات کریں گے۔

موبائل، سیمنٹ، کاغذ، امپورٹڈ ملبوسات ،گاڑیاں مہنگی، پٹرولیم لیوی میں بھی اضافہ

آئندہ مالی سال کے لیے 434 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کی ہے،برآمدکنندگان پر ٹیکس چھوٹ ختم کر کے نارمل ٹیکس رجیم میں لائے ہیں،غیر منقولہ جائیداد پر 5 فیصد ایف آئی ڈی لگائی گئی ہے۔

دودھ مصنوعات، ایل پی جی درآمد پر زیرو ریٹنگ ختم کی ،درآمدی کمپیوٹرز پر بھی زیرو ریٹڈ ٹیکس ختم کیاہے،آئندہ مالی سال میں 50 ارب روپے ریٹیلرز اسکیم سے آئیں گے،200ارب روپے ڈیجیٹل اقدامات سے آئیں گے۔

حکومتی وفد اور سرکاری ملازمین کے درمیان مذاکرات کامیاب

جو موبائل صارفین ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں شامل نہیں ہونگے ان کی کال پر 75فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔


متعلقہ خبریں