نواز شریف کو وطن واپسی پر ہتھکڑی لگانے کا فیصلہ ادارے کریں گے، نگران وزیر اعظم

anwar ul haq kakar

نئے ویزا نظام کا افتتاح کر دیا گیا


ہنزہ: نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو وطن واپسی پر ہتھکڑی لگانے کا فیصلہ ادارے کریں گے۔

نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران کہا کہ انتخابات کی تاریخ دینے کا مینڈیٹ الیکشن کمیشن کے پاس ہے اور الیکشن کمیشن جلد مناسب وقت پر انتخابات کا اعلان کر دے گا تاہم جنوری کے آخر تک انتخابات ہوسکتے ہیں اور انتخابات کے حوالے سے ہماری تیاری مکمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ چاروں صوبائی وزرا اعلیٰ سمیت سب کو اسمگلنگ سے متعلق ایکشن کی ہدایت دی ہیں، کوئٹہ، گلگت، پشاور میں اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں سے بہت فرق پڑا ہے جبکہ سول اداروں کی صلاحیت میں اضافے کی ضرورت ہے۔

انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ بدقسمتی سے ایرانی تیل کی اسمگلنگ میں کچھ سیاستدان بھی ملوث ہیں اور اسمگلنگ میں بیوروکریسی کے لوگ بھی ملوث ہیں۔ ثبوت اکھٹے کر رہے ہیں تاکہ عدالت میں انہیں چیلنج کرسکیں۔ اسمگلنگ میں ملوث تمام لوگوں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ڈالر کی اسمگلنگ غیر قانونی عمل ہے اور ڈالرز کی اسمگلنگ سے اوپن مارکیٹ پر بہت اثر پڑ رہا تھا اب ہمارے کریک ڈاون کی وجہ سے بہت مثبت اثر پڑا ہے۔ امید اور کوشش ہے کہ روپیہ مزید مستحکم ہو۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ میں کسی جماعت سے اتحاد نہیں ہوا، رابطے چل رہے ہیں، مولانا فضل الرحمان

نگران وزیر اعظم نے کہا کہ ہر حکومت سے کچھ اچھے اور کچھ برے فیصلے ہوجاتے ہیں۔ 3 یا ساڑھے 4 ماہ بعد انتخابات تو ہونے ہیں اور منتخب حکومت کو آنا ہے۔
اگر سیاسی جماعتوں کے پاس معاشی پلان نہیں ہو گا تو مشکلات میں اضافہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ 9 مئی جیسا واقعہ کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے اور میرے خیال میں تحریک انصاف تو اتنخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ سائفر کیس اور دیگر مقدمات کا معاملہ عدالتوں پر چھوڑنا چاہیے۔

انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کو ہتھکڑی لگانے کی اجازت قانون دیتا ہے تو درست ہے اور نوازشریف کو وطن واپسی پر ہتھکڑی لگانے یا نہ لگانے کا فیصلہ اداروں کا ہو گا۔

دہشتگردی سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 80 ہزار لوگ دہشت گردی کی وجہ سے شہید ہوئے اور ٹی ٹی پی سمیت دیگر کالعدم تنظیمیں امریکی اسلحے کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہیں۔ غیرقانونی افغان باشندوں کی واپسی کے لیے کام کر رہے ہیں۔

انہوں ںے کہا کہ سیاسی انتقام کے لیے سیاستدانوں کا احتساب نہیں ہونا چاہیے جبکہ احتساب صاف اور شفاف طریقے سے قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔


متعلقہ خبریں