علی بلال تشدد سے ہلاک نہیں ہوا، پنجاب حکومت نے ویڈیو جعلی قرار دے دی


نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی اور آئی جی پنجاب نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پی ٹی آئی کارکن علی بلال تشدد سے ہلاک نہیں ہوا، ویڈیو بھی جعلی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی شہری کی ہلاکت کوئی معمولی بات نہیں،ہم نے ظل شاہ کی ہلاکت سے متعلق تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیاتھا۔

8مارچ کو ظل شاہ کی ہلاکت کا واقعہ ہوا،اس موقع پر کہاگیا کہ پولیس نے تشدد کیاتھا۔اس موقع پر انہوں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کتنا جھوٹ بولیں گے، ہمارے بھی بچے ہیں، رشتہ دار ہیں۔

اگر اس سیٹ پر نہ بیٹھا ہوتا تو کسی اور طریقے سے جواب دیتا،ان کا کہنا تھا کہ جس جس نے زیادتی کی ہے، اللہ پر چھوڑتے ہیں،پولیس ٹیم نے ٹریس کیا اور جو کام کیا قابل تعریف ہے۔

جوآڈیو بنائی گئی، وہ سن لیں پھر فرانزک کی ضرورت نہیں، نگران وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ساڑھے 8 بجے راجہ شکیل یاسمین راشد کو ساری تفصیل دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ظل شاہ کو ٹکر مارنے والی گاڑی کا مالک پی ٹی آئی کا اہم عہدیدار نکلا، آئی جی پنجاب

یاسمین راشد کو بتایا جاتا ہے کہ ایسے حادثہ ہوا،اس موقع پر یاسمین راشد نے جواب دیا کہ صبح زمان پارک آ جائیں لیڈر شپ سے ملاقات کرواتی ہوں۔

راجہ شکیل زمان پارک میں گیاوہاں یاسمین راشد نے ملاقات نہیں کروائی، راجہ شکیل نے ایک اور کال زبیر نیازی کو بھی کی۔

نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کا کہنا تھا ہمارا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں تھا،پہلے مجھے سیاست میں ڈالا گیا پھر سازش اور اب قتل میں ڈال دیا گیا۔

نگران وزیراعلیٰ نے پی ٹی آئی والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آپ کو بتایاگیا کہ ٹریفک حادثہ ہے پھر بھی الزام لگاتے ہیں۔

انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ظل شاہ کے والد کو کہاگیا کہ ہم آپ کو پیسے دیں گے آپ کھڑے رہیں۔

دوسری جانب پریس کانفرنس میں آئی جی پنجاب نے سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کو جعلی قرار دے دیا۔


متعلقہ خبریں