عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل نے پاکستان کی طویل مدتی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ‘بی مائنس’ (B-) سے بڑھا کر ‘بی’ (B) کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ‘اسٹیبل’ (Stable) برقرار رکھا گیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ایس اینڈ پی گلوبل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات پر مؤثر عملدرآمد، ادارہ جاتی استحکام میں بہتری اور معاشی اشاریوں میں مثبت پیش رفت کے باعث کیا گیا۔
🇵🇰 𝗦&𝗣 𝗨𝗽𝗴𝗿𝗮𝗱𝗲𝘀 𝗣𝗮𝗸𝗶𝘀𝘁𝗮𝗻 𝘁𝗼 '𝗕' 𝘄𝗶𝘁𝗵 𝗦𝘁𝗮𝗯𝗹𝗲 𝗢𝘂𝘁𝗹𝗼𝗼𝗸
Another major vote of confidence in Pakistan's economic turnaround.
𝗣𝗮𝗸𝗶𝘀𝘁𝗮𝗻 𝗵𝗮𝘀 𝗿𝗲𝗴𝗮𝗶𝗻𝗲𝗱 "𝗕" 𝗥𝗮𝘁𝗶𝗻𝗴𝘀 𝗮𝗳𝘁𝗲𝗿 𝟵 𝘆𝗲𝗮𝗿𝘀 (𝗹𝗮𝘀𝘁 𝗶𝗻 𝟮𝟬𝟭𝟲-𝟭𝟳)
S&P… pic.twitter.com/Q12PjoxbLZ
— Khurram Schehzad (@kschehzad) July 22, 2026
ایجنسی کے مطابق حکومت کی جانب سے ٹیکس نیٹ میں توسیع کی کوششوں سے محصولات میں اضافہ ہوا، مالیاتی خسارے میں کمی آئی اور قرضوں کے بوجھ میں بتدریج کمی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کی معاونت سے کی جانے والی اصلاحات نے پاکستان میں معاشی استحکام بحال کرنے، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرنے اور مالیاتی و بیرونی شعبے پر دباؤ کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ٹیکس اصلاحات اور بیرونی مالی معاونت نے ممکنہ عالمی معاشی جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی مالیاتی اور بیرونی پوزیشن کو بھی مضبوط بنایا ہے۔
Topline Economy Alert
Jul 22, 2026Standard & Poor’s (S&P) Global has upgraded Pakistan’s Long-Term Instruments Credit Rating to ‘B’ from earlier “B-“. To recall, last time Pakistan was in B category from Oct 31, 2016 to Feb 03, 2019. The upgradations brings Pakistan’s rating… pic.twitter.com/q2gnqDipYo
— Topline Securities Ltd (@toplinesec) July 22, 2026
ایس اینڈ پی گلوبل نے کہا کہ سرکاری ذرائع سے مسلسل مالی معاونت آئندہ 12 ماہ کے دوران پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں کی ذمہ داریاں پوری کرنے اور کمرشل قرضوں کی تجدید (رول اوور) جاری رکھنے میں مدد دے گی، اسی لیے ملک کا آؤٹ لک ‘اسٹیبل’ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ اپ گریڈ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان بیرونی مالی وسائل کے حصول کی کوشش کر رہا ہے۔ رائٹرز نے ایک ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان امریکا سے 10 ارب ڈالر کی مجوزہ ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت پر بھی بات چیت کر رہا ہے۔ اگر اس سہولت کی منظوری ملتی ہے تو زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، روپے پر دباؤ میں کمی اور کثیرالجہتی مالیاتی اداروں پر انحصار کم ہونے کی توقع ہے۔
سونے کی قیمت میں دوسرے روز بھی بڑا اضافہ
ایس اینڈ پی گلوبل نے مالی سال 2027 کے لیے پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی بھی کی ہے جبکہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود مہنگائی کے دباؤ کو محدود رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
