تہران: عالمی وبا کورونا وائرس سے ایران میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 440 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ 35 ہزار سے زائد متاثر ہوئے۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک میں نئے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 35 ہزار سات سو 38 ہوگئی ہے۔
رائٹرز کے مطابق بڑھتے ہوئے کورونا کیسز پر قابو پانے کے لیے حکام نے بڑے شہروں بشمول تہران میں آنے اور جانے پر چار روزہ نئی سفری پابندیاں عائد کردی ہیں۔
خبر راساں ایجنسی کے مطابق بیشتر شہروں میں اکتوبر سے اسکولز، مساجد، شاپنگ سنٹرز اور ریسٹورنٹس بدستور بند ہیں۔
رائٹرز نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کے سبب ایرانی حکومت دارالحکومت تہران میں 14 روزہ مکمل بندش سے متعلق فیصلہ کرنے جارہی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کے دارالحکومت تہران میں فیس ماسک پہننا لازم قرار
ایران کے وزیر صحت سیما سادات لاری نے ایرانی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 8,289 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے بعد ملک میں کیسز کی مجموعی تعداد چھ لاکھ 28 ہزار 780 ہوگئی ہے۔
ایران میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت 19 فروری میں رپورٹ ہوئی تھی۔
ایران کے میڈیکل کونسل کے سربراہ محمد ظفر غاندی نے ہلاکتوں سے متعلق حکومتی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اموات کے لحاظ سے تباہ کن حد کی شرح کو چھورہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اموات سے متعلق سرکاری اعدادو شمار صرف رجسٹرڈ مریضوں کے بارے میں ہیں۔ ایرانی میڈیکل کونسل کے اہلکاروں نے جاں بحق افراد سے متعلق فیلڈ وزٹس، اسپتالوں اور قبرستانوں سے سرکاری اعدادو شمار کے برعکس تین گنا زیادہ ڈیٹا اکھٹا کیا ہے۔
ایرانی میڈیکل کونسل ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جسے ایران میں ڈاکٹروں کو لائسنز دینے کا اختیار ہے۔
