’حکومت سے ایک شرط پر بات ہوگی‘

حافظ حمد اللہ کی شہریت منسوخی پر نادرا سے جواب طلب

فائل فوٹو


اسلام آباد: جمیعت علمائے اسلام کے رہنما حافظ حمد اللہ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف سے ایک شرط پر بات ہو سکتی ہے حکومت تحلیل کر کے نئے انتخابات کا اعلان کیا جائے۔

نجی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا ہم کٹھ پتلی حکومت سے بات نہیں کریں گے، جس کے پاس اختیار ہیں اس کے ساتھ بات کرنے کا فائدہ ہی نہیں ہے۔

دھرنے کے اخراجات سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے کارکن اپنا خرچ ساتھ لائیں گے، وہ ممی ڈیڈی یا برگر نہیں ہیں بلکہ دال کھا کر بھی زندہ رہ لیں گے۔

جے یو آئی رہنما نے بتایا یہ طے کرنا ابھی باقی ہے کہ ڈی چوک میں دھرنے کے بعد کیا کرنا ہے، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا آپشن بھی زیر غور ہے۔

احتجاج کی تاریخ کے حوالے حافظ حمداللہ کا کہنا تھا کہ 27 اکتوبر کر ہم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کریں گے، جس طرح مظلوم کشمیریوں کو مودی سے نجات دلانی ہے اسی طرے اپنی عوام کو موجودہ حکومت سے چھٹکارہ دلانا ہے۔

جیل میں نوازشریف سے ملاقات کے متعلق سوال پر جے یو آئی رہنما کا کہنا تھا کہ وہاں دھرنے کے خدوخال اور دیگر اہم امور پر بات چیت کی جائے گی۔

حافظ حمداللہ نے بتایا کہ دھرنا کتنے دن کا ہوگا یہ طے کرنا باقی ہے تاہم حکومت گرائے بغیر ہم ڈی شوک سے نہیں اٹھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ڈی چوک میں پہنچنے کے بعد کیا کرنا ہے یہ ابھی طے نہیں ہوا، ہمارے اتحادی دھرنے پر متفق ہیں اور ہر بات


متعلقہ خبریں