اسکاٹ لینڈ کی آزادی کیلئے برطانوی وزیراعظم سے ریفرنڈم کا مطالبہ

نکولا سرجن/رائٹرز فائل فوٹو


رائٹرز: اسکاٹ لینڈ کی قوم پرست رہنما اور فرسٹ منسٹر نکولا سرجن نے جمعرات کے روزبرطانیہ کے نئے وزیراعظم بورس جانسن سے اسکاٹ لینڈ کی برطانیہ سے آزادی کیلیے ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ کردیا۔

ایک بیان میں سرجن نہ کہا کہ برطانیہ سے اسکاٹ لینڈ کی آزادی کے لیے وہ اپنی کوششیں تیز کرینگی کیونکہ وزیر اعظم بورس جانسن کا بریگزٹ منصوبہ سکاٹ لینڈ کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اسکاٹ لینڈ کی قوم پرست لیڈر نے کہا کہ اب یہ پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوگیا ہے کہ برطانیہ سے آزادی کے لیے ریفرنڈم کرایا جائے اوراسکاٹش لوگوں کے پاس اس کے علاوہ دوسرا  کوئی راستہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسکاٹ لینڈ کی حکومت اپنے باشندوں کو اس حوالے سے تیاری کرنے اور مناسب قانون سازی کے لیے موسم گرما کی تعطلات کے بعد باقاعدہ کام شروع کریگی۔

وزیراعظم بورس جانسن برطانیہ کی یورپی ہونین سے جلد علیحدگی کے خواہاں ہیں اور وہ سبکدوش ہونے والے وزیراعظم تھریسا مے کی بریگزٹ معاہدے کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

2014 کے ریفرنڈم میں پچپن فیصد اسکاٹ لینڈ کے باشندوں نے برطانیہ کے ساتھ رہنے  جبکہ پینتالیس فیصد نے علحیدگی کے حق میں ووٹ ڈالا تھا۔

یہ بھی پڑئیے: نومنتخب برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی زندگی کے چند مشہور تنازعات

 


متعلقہ خبریں