واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اپنی صدارت میں دنیا کو بم سے اڑتے نہیں دیکھ سکتا۔ تاہم ایران کے پاس اب وقت محدود ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران نیوکلیئر ہتھیار چاہتا ہے۔ لیکن ہم ایران کو نیوکلیئر ہتھیار نہیں رکھنے دیں گے۔ اور میں نے اوباما کی نیوکلئیر ڈیل ختم کر دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایسے ملک کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں جنہیں ہم بری طرح مار رہے ہیں۔ جبکہ یقین نہیں لیکن ہو سکتا ہے ایران کے خلاف ایک اور کارروائی کرنا پڑے۔ بہت سے ممالک مذاکرات کر رہے ہیں۔ جبکہ قطر، سعودی عرب سمیت کئی ممالک نے مجھ سے رابطہ کیا۔ اور گزشتہ روز کئی بڑے رہنماؤں نے مجھ سے رابطہ کیا کہ حملہ روک دیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں کبھی کسی کو نہیں بتاتا کہ میں حملہ کرنے جا رہا ہوں۔ میں بہت مصروف ہوں اور یہ مسئلہ حل کر رہا ہوں۔ کیونکہ اپنی صدارت میں دنیا کو بم سے اڑتے نہیں دیکھ سکتا۔ میں ایران پر حملہ کرنے سے صرف ایک گھنٹے کی دوری پر تھا۔ اور رہنماؤں نے کہا کہ کچھ اور دن دے دیں، ایران ذمہ دارانہ رویہ اپنا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم ایران پر حملہ کرتے تو کارروائی اب چل رہی ہوتی۔ جبکہ ہم حملے کے لیے تیار تھے، جہاز اسلحے اور ہتھیاروں سے لدے ہوئے تھے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ چینی صدر نے مجھے یقین دہانی کرائی وہ ایران کو ہتھیار نہیں بھیجیں گے۔ تاہم ایران کے پاس اب بھی جواب دینے کی تھوڑی بہت صلاحیت باقی ہے۔ تاہم معاہدہ ہو یا فوجی حملہ، ایران کے پاس نیوکلیئر ہتھیار نہیں ہو سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: مودی کا دورہ یورپ ہزیمت کا سفر؛ عالمی سطح پر بھارتی سفاکیت بے نقاب
انہوں نے کہا کہ ایران جلد معاہدے یا فوجی طریقہ استعمال کرنے پر آبنائے ہرمز کھولے گا۔ تاہم ایران سے متعلق ٹائم لائن نہیں دوں گا لیکن یہ بہت جلد ہونے والا ہے۔ لیکن اب ایران کے پاس محدود وقت ہے۔
