چین کے صدر شی جن پنگ اور روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے بیجنگ میں ہونے والے سربراہی اجلاس کے دوران دوطرفہ تعلقات کو سراہتے ہوئے اسٹریٹجک تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا، جس میں توانائی کے شعبے کو خاص اہمیت دی گئی۔
چینی دارالحکومت میں عظیم عوامی ہال میں پیوٹن کا سرکاری استقبال کیا گیا، جہاں گارڈ آف آنر اور توپوں کی سلامی دی گئی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان باضابطہ مذاکرات کے ساتھ غیر رسمی “چائے سفارتکاری” ملاقات بھی متوقع ہے، جسے بیجنگ میں خاص سفارتی اہمیت حاصل ہے۔
صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور روس کو طویل المدتی حکمت عملی پر توجہ دینی چاہیے اور عالمی نظام کو “زیادہ منصفانہ اور متوازن” بنانے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اعتماد اور اسٹریٹجک تعاون نے تعلقات کو موجودہ سطح تک پہنچایا ہے۔
🇷🇺🇨🇳 On May 19, President #Putin arrived in Beijing for an official visit to China at the invitation of President Xi Jinping.
The visit marks the 25th anniversary of the landmark Russia-China Treaty of Good-Neighbourliness, Friendship & Cooperation.#RussiaChina pic.twitter.com/gsyApeuvu8
— MFA Russia 🇷🇺 (@mfa_russia) May 19, 2026
دوسری جانب صدر پیوٹن نے کہا کہ چین اور روس کے تعلقات عالمی استحکام میں کردار ادا کر رہے ہیں، اور روس مشرق وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ایک قابل اعتماد توانائی فراہم کنندہ رہے گا۔
یہ ملاقات امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ دورۂ بیجنگ کے فوراً بعد ہوئی ہے، جس کے باعث اس سربراہی اجلاس کو عالمی سطح پر خاص توجہ حاصل ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چین بیک وقت بڑی عالمی طاقتوں کے رہنماؤں کی میزبانی کر کے اپنے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کو اجاگر کر رہا ہے۔ چینی سرکاری میڈیا نے اسے ایک منقسم عالمی نظام میں چین کی اہمیت کے اعتراف کے طور پر پیش کیا ہے۔
ادھر دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں بہتری کے آثار بھی سامنے آئے ہیں، جبکہ روس نے توانائی تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے، خاص طور پر “پاور آف سائبیریا 2” گیس پائپ لائن منصوبہ، جو روس کو شمالی چین سے جوڑے گا۔
واضح رہے کہ یوکرین جنگ کے باعث مغربی پابندیوں کا سامنا کرنے والے روس کے لیے چین ایک اہم معاشی سہارا بن چکا ہے، تاہم بیجنگ توانائی کے ذرائع میں تنوع برقرار رکھنے کی پالیسی پر بھی قائم رہ سکتا ہے۔
