امریکی پالیسی سے مزاکرات کی راہ کھلے گی، جنرل نکولسن


کابل:  نیٹو مشن اورافغانستان میں موجود امریکی افواج کے سربراہ جنرل نکولسن نے کہا ہے کہ نئی امریکی پالیسی سے جنوبی ایشیا میں امن مذاکرات کی راہ کھلے گی۔انہوں نے کہا کہ افغان حکومت اور امریکی فوج کو امن مذاکرات کی زیادہ ضرورت ہے۔

کابل میں بطور سربراہ امریکی افواج  اپنی الوداعی پریس کانفرنس میں جنرل نکلسن نے کہا کہ بعض شعبوں میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری آئی  ہے۔

جنرل نکلسن کو تبدیل کرکے افغانستان میں امریکی فوج کی سربراہی لیفٹیننت جنرل ملر کے حوالے کی گئی ہے ۔اس ضمن میں آئندہ ہفتہ کمان کی تبدیلی متوقع ہے۔

امریکی جنرل نے کہا کہ افغانستان کے عسکری معاملات میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس مذاکرات کے مواقع موجود ہیں۔

 جنرل نکولسن نے ماضی میں الزام لگایا تھا کہ روس نہ صرف طالبان کی مدد کر رہا ہے بلکہ انھیں اسلحہ بھی فراہم کر رہا ہے۔

 جنرل جان نکولسن نے کہا تھا کہ انھوں نے ’’روسیوں کی جانب سے غیر مستحکم کرنے والی سرگرمیاں دیکھی ہیں‘‘۔

روس اور طالبان نے امریکی جنرل کی جانب سے عائد کردہ الزامات کی تردید کی تھی۔

 


متعلقہ خبریں