آبنائے ہرمز کے قریب کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جہاں امریکی فورسز نے دو ایرانی حملہ آور ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق یہ ڈرونز ممکنہ طور پر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔
عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ واقعے کے باوجود آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک معمول کے مطابق جاری ہے۔
Breaking News 🚨
Major attack on a military base in Tehran
According to reports from sources, the US has destroyed several military bases in Tehran in a drone strike, resulting in the deaths of over 120 soldiers. pic.twitter.com/89VcbRECvd
— Donald Trump Jr Q (@Trump_donald07) June 12, 2026
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایران پر نئے فوجی حملوں کا فیصلہ مؤخر کر دیا ہے۔
اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے اور آئندہ چند روز میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
دوسری جانب تہران نے امریکی صدر کے دعوؤں پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تاحال کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہیں ہوا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق معاہدے کا بیشتر متن تیار ہو چکا تھا، لیکن امریکا کی جانب سے نئی شرائط سامنے آنے کے بعد معاملات پیچیدہ ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے ابھی تک کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا، جبکہ ایرانی خبر رساں ادارے نے نشاندہی کی ہے کہ صدر ٹرمپ گزشتہ دو ماہ میں متعدد بار ایسے دعوے کر چکے ہیں۔
