امریکا یورپ میں نیٹو آپریشنز کیلئے فراہم کیے جانے والے جنگی طیاروں اور بحری جہازوں میں نمایاں کمی کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس سے اتحاد کی طویل فاصلے تک حملے اور نگرانی کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے یورپی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ منصوبے کے تحت ایف-16 اور ایف-15 ای طیاروں کی تعداد تقریباً 150 سے کم کر کے 100 کی جا سکتی ہے، جبکہ بحری نگرانی کے طیارے 26 سے کم کر کے 15 کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ فضائی ایندھن فراہم کرنے والے تمام آٹھ طیارے بھی واپس بلائے جانے کا امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا ایک میزائل بردار آبدوز اور طیارہ بردار بحری جہاز کو بھی دوسری جگہ تعینات کرنے پر غور کر رہا ہے، جبکہ یورپ کے دفاع کیلئے مختص بمبار طیاروں کے دو گروپس میں سے ایک کو بھی منتقل کیا جا سکتا ہے۔
🇺🇸🇪🇺 BREAKING: The United States is planning to scale back key military assets assigned to NATO operations in Europe, including fighter jets, aerial refueling tankers, and naval forces, according to reports citing the New York Times. pic.twitter.com/uwp5Hm1tYx
— Defence Index (@Defence_Index) June 12, 2026
تاہم اس حوالے سے نہ تو نیٹو اور نہ ہی امریکی محکمہ دفاع نے فوری طور پر کوئی ردعمل دیا ہے، جبکہ خبر کی آزادانہ تصدیق بھی ممکن نہیں ہو سکی۔
امریکی مشرقی کمان نے گزشتہ ہفتے اپنے بیان میں کہا تھا کہ نیٹو فورس ماڈل میں اپنی شمولیت کو “درست حجم” تک لایا جائے گا، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ یورپی ممالک پر دفاعی اخراجات میں اضافے کیلئے دباؤ ڈالتی رہی ہے، اور ان پر امریکی سیکیورٹی پر زیادہ انحصار کرنے کا الزام بھی عائد کرتی آئی ہے۔
ادھر نیٹو نے اعلان کیا ہے کہ کوسوو میں 1999 سے جاری امن مشن کی تعداد میں آئندہ ایک سال کے دوران بتدریج کمی کی جائے گی، جس کی وجہ ملک میں سیکیورٹی صورتحال کا مستحکم ہونا ہے۔
نیٹو کے اعلیٰ کمانڈر جنرل الیکسس جی گرنکیوچ کے مطابق یہ فیصلہ زمینی حقائق کے مطابق کیا جا رہا ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر اس میں تبدیلی بھی ممکن ہو گی۔
