اسرائیلی الیکشن کمیشن نے گزشتہ ہفتے ہونے والے عام انتخابات کے نتائج کی باضابطہ توثیق کر دی، جبکہ انتخابی عمل میں دھاندلی یا بے ضابطگی کے شواہد نہ ملنے کے بعد وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی الیکشن کمیشن نے انتخابی نتائج صدر اسحاق ہرزوگ کے حوالے کر دیئے، جو اب حکومت سازی کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں اور پارلیمانی بلاکس کے رہنماؤں سے دو روز تک مشاورت کریں گے۔ اس کے بعد صدر اس امیدوار کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے جس کے پاس پارلیمانی حمایت حاصل کرنے کے امکانات زیادہ ہوں گے۔
27 اکتوبر کو ہونے والے اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کے حامی بلاک نے 53 نشستیں حاصل کیں، جبکہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن بلاک 48 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہا۔ عرب جماعتوں رام اور جوائنٹ لسٹ نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کرکے ریکارڈ کامیابی حاصل کی۔
اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کی 120 نشستوں میں حکومت بنانے کے لیے 61 ارکان کی حمایت ضروری ہے، تاہم کوئی بھی بلاک واضح اکثریت حاصل نہیں کرسکا۔
صدر اسحاق ہرزوگ نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ نئی حکومت کے قیام کے لیے لچک اور سیاسی سمجھوتے کا مظاہرہ کریں اور نئے انتخابات سے بچنے کی کوشش کریں۔
الیکشن کمیشن کے سربراہ اور سپریم کورٹ کے جسٹس نوام سولبرگ نے کہا کہ انتخابی نتائج پر شکوک و شبہات پیدا کرنا اسرائیلی جمہوریت کے لیے حقیقی خطرہ ہے۔ اور 9 ہزار 69 پولنگ اسٹیشنوں کے جائزے میں ایسی کوئی بے ضابطگی سامنے نہیں آئی جس سے انتخابی عمل کی شفافیت یا نتائج متاثر ہوئے ہوں۔
الیکشن کمیشن کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ڈین لیون نے بھی کہا کہ انتخابی عمل سے متعلق ہر شکایت کا الگ الگ جائزہ لیا گیا اور نتائج ووٹروں کی حقیقی رائے کی عکاسی کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں نے عرب جماعتوں پر انتخابات چوری کرنے اور غیر ملکی مدد حاصل کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے نتائج کی توثیق روکنے اور عرب جماعتوں کے رہنماؤں کی گرفتاری کا مطالبہ بھی کیا۔ جبکہ ان کی جماعت اوتسما یہودیت نے انتخابی نتائج کی منظوری کے خلاف ووٹ دینے کا اعلان کیا۔
رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کے پانچ رکنی پینل میں یش عتید اور بلیو اینڈ وائٹ کے نمائندوں نے نتائج کی منظوری کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ لیکوڈ اور شاس کے نمائندوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ جسٹس نوام سولبرگ نے فیصلہ کن ووٹ دے کر نتائج کی توثیق کر دی۔
حکومت سازی کے لیے صدر اسحاق ہرزوگ پہلے چھوٹی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے، جن میں مذہبی صیہونیت، شاس اور یسرائیل بیتینو شامل ہیں۔ جبکہ جمعرات کو دیگر جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت متوقع ہے، جس کا اختتام گادی آئزن کوٹ اور آخر میں لیکوڈ کے رہنماؤں سے ملاقات پر ہو گا۔
مشاورت مکمل ہونے کے بعد صدر نامزد امیدوار کو حکومت بنانے کے لیے 28 دن دیں گے، جبکہ ضرورت پڑنے پر مزید 14 دن کی توسیع بھی دی جاسکتی ہے۔ اگر کوئی امیدوار حکومت بنانے میں کامیاب نہ ہوا تو اسرائیل میں اگلے سال کے آغاز میں دوبارہ انتخابات ہوسکتے ہیں۔
اسرائیل میں 2019 سے 2022 کے دوران مسلسل سیاسی تعطل کے باعث پانچ مرتبہ انتخابات ہوچکے ہیں، جبکہ 2022 کے انتخابات کے بعد نیتن یاہو کو حکومت بنانے میں 58 دن لگے تھے۔
الیکشن کمیشن کے سربراہ جسٹس نوام سولبرگ نے واضح کیا کہ انتخابی بے ضابطگیوں سے متعلق تحقیقات جاری رہ سکتی ہیں، تاہم قانونی طریقے سے طے شدہ نتائج سب کے لیے قابل قبول اور پابند ہیں۔ جبکہ کسی بھی جماعت یا سیاسی رہنما کو انتخابی نتائج کی اشاعت روکنے کا اختیار حاصل نہیں۔


