اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ مل کر متحدہ حکومت بنانے کا امکان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے بعد نیتن یاہو کی سربراہی میں قومی اتحاد کی حکومت کا امکان مکمل طور پر ختم ہوگیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے عرب نیوز کے مطابق یائر لیپڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کے وسط مدتی انتخابات کے نتائج نے اسرائیل کی سیاسی صورتحال پر بھی اثر ڈالا ہے اور اب نیتن یاہو کی قیادت میں متحدہ حکومت بنانے کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس بات کا متحمل نہیں ہوسکتا کہ نیتن یاہو وزیراعظم کے عہدے پر برقرار رہیں، ان کا اقتدار میں رہنا ملکی سلامتی اور جمہوریت کے لیے خطرہ ہے جبکہ اس سے عالمی سطح پر اسرائیل کی ساکھ بھی تباہ ہوگی۔
یائر لیپڈ نے کہا کہ اسرائیل کو ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو ملک کی سلامتی یقینی بنانے کے ساتھ عالمی سطح پر اس کی پوزیشن بہتر بنا سکے۔
دوسری جانب اسرائیلی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کے سربراہ یائر گولان نے بھی نیتن یاہو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انتخابات کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیتن یاہو کی پالیسیوں کو امریکا میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں حلقوں میں مخالفت کا سامنا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ نیتن یاہو کی حکومت برقرار رہنے سے اسرائیل عالمی تنہائی اور ممکنہ پابندیوں کی طرف بڑھ سکتا ہے، جبکہ امریکا کے ساتھ تعلقات میں بھی مزید کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے سینیٹ اور ایوان نمائندگان دونوں میں اکثریت حاصل کرلی ہے۔ انتخابی نتائج کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں، معاشی مشکلات اور ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے اثرات پر عوامی عدم اطمینان کا نتیجہ قرار دیا جارہا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی اپوزیشن نے نیتن یاہو سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پالیسیوں کے باعث اسرائیل کے اپنے سب سے اہم اتحادی امریکا کے ساتھ تعلقات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل اس بات کا متحمل نہیں ہوسکتا کہ نیتن یاہو وزیراعظم کے عہدے پر برقرار رہیں۔ ان کا اقتدار میں رہنا اسرائیل کی سلامتی اور جمہوریت کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ عالمی سطح پر ملک کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچائے گا۔
اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کے سربراہ یائر گولان نے کہا کہ امریکی انتخابات نے واضح کردیا ہے کہ نیتن یاہو ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں کے لیے کس قدر متنازع شخصیت بن چکے ہیں۔
انہوں نے نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیل کو عالمی سطح پر بائیکاٹ، پسماندگی اور تنہائی کا شکار قرار دیتے ہوئے فوری طور پر نئی حکومت تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں اکتوبر کے عام انتخابات کے بعد نیتن یاہو کے حامی اور مخالف دونوں سیاسی اتحاد پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے، جس کے باعث حکومت سازی کا عمل پیچیدہ ہوگیا ہے۔
انتخابی نتائج کے بعد یہ قیاس آرائیاں بھی سامنے آئی تھیں کہ نیتن یاہو اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ کے ساتھ مل کر قومی اتحاد کی حکومت بنانے کی کوشش کرسکتے ہیں، تاہم دونوں سیاسی دھڑوں کے درمیان واضح اکثریت نہ ہونے اور فلسطینی جماعتوں کے ساتھ اتحاد پر اختلافات کے باعث حکومت سازی میں مشکلات برقرار ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو نے خبردار کیا تھا کہ مستقبل میں امریکی حکومتیں اسرائیل کے لیے زیادہ مخالفانہ رویہ اختیار کرسکتی ہیں، اس لیے اسرائیل کو امریکا پر اپنا انحصار کم کرنے کی ضرورت ہے۔



