وفاقی کابینہ نے نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن اور 10 روپے کے سکے کی منظوری دے دی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن، 10 روپے کے سکے کے اجرا، خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے دوران انتظامی اختیارات کی منتقلی اور پاکستان و کویت کے درمیان دفاعی تعاون سمیت متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دے دی گئی۔
وفاقی کابینہ کی جانب سے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق وزارت خزانہ کی سفارش پر نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کی منظوری دی گئی۔ کابینہ کو نئے نوٹوں کے ڈیزائن کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔
اعلامیے کے مطابق نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن تیار کرنے کے لیے ملک بھر کے مصوروں اور ڈیزائنرز سے تجاویز حاصل کی گئیں، جبکہ وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ کابینہ کمیٹی نے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی۔
وفاقی کابینہ کو بتایا گیا کہ جعلی کرنسی کی روک تھام کے لیے نئے نوٹوں میں جدید سیکیورٹی فیچرز اور جدید میٹریل استعمال کیا جائے گا۔
اعلامیے کے مطابق نئے میٹریل کے استعمال سے کرنسی نوٹوں کی پائیداری اور استعمال کی مدت میں بھی اضافہ ہوگا، جس سے نوٹوں کی جلد خراب ہونے کی شکایات میں کمی آنے کی توقع ہے۔
10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکے کے اجرا کی منظوری
وفاقی کابینہ نے 10 روپے کے کرنسی نوٹ کی جگہ 10 روپے کا سکہ متعارف کرانے کی بھی منظوری دے دی۔
اس فیصلے کے تحت موجودہ 10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکے کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔ سکے کے اجرا کا مقصد کرنسی کی پائیداری بڑھانے اور بار بار نوٹوں کی تبدیلی کے اخراجات میں کمی لانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے دوران انتظامی اختیارات گورنر کو منتقل کرنے کی منظوری
وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی صورت میں وزیراعلیٰ کے روزمرہ انتظامی اختیارات گورنر کو منتقل کرنے کی منظوری بھی دے دی۔
اعلامیے کے مطابق ایمرجنسی کے دوران گورنر خیبرپختونخوا ان اختیارات کو استعمال کریں گے جبکہ اختیارات کے استعمال سے متعلق ہر ماہ وفاقی حکومت کو رپورٹ پیش کرنے کے پابند ہوں گے۔
پاکستان اور کویت کے دفاعی تعاون کے معاہدے کی توثیق
وفاقی کابینہ نے پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے کی بھی توثیق کردی۔
اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان یہ معاہدہ 11 جون 2023 کو طے پایا تھا، جس کا مقصد دفاعی شعبے میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینا ہے۔
کویت نے 19 جولائی کو پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی توثیق کی تھی جبکہ اب وفاقی کابینہ نے بھی معاہدے کی توثیق کی منظوری دے دی ہے۔
سرکاری اداروں اور قانون سازی سے متعلق فیصلوں کی توثیق
وفاقی کابینہ نے حکومتی ملکیتی اداروں سے متعلق کابینہ کمیٹی کے 26 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس کے فیصلوں کی بھی توثیق کردی۔
اس کے علاوہ کابینہ نے لیجسلیٹو کیسز کمیٹی کے مختلف اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں کی بھی منظوری دے دی۔وفاقی کابینہ کے اعلامیے میں اجلاس کے دوران کیے گئے تمام فیصلوں کی تفصیلات جاری کردی گئی ہیں۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.
وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا میں انتظامی امور کی سہل انجام دہی اور گورننس کی مزید بہتری کیلئے وزیر اعلی کو تفویض شدہ اختیارات کی صوبے میں ایمرجنسی کی مدت کے دوران روزمرہ کے امور کی انجام دہی کیلئے گورنر خیبر پختونخوا کو منتقلی کی منظوری دے دی. گورنر خیبر پختونخوا ایسے تمام اختیارات کے استعمال کے حوالے سے ہر ماہ وفاقی حکومت کو جائزہ رپورٹ پیش کریں گے. وفاقی کابینہ نے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ خیبر پختونخوا ایڈوائزی کونسل، گورنر خیبر پختونخوا کی قیادت میں صوبے کے عوام کی بہتری اور خوشحالی اور صوبے میں امن و امان کے قیام کیلئے بھرپور کاوشیں یقینی بنائیں گے.
وفاقی کابینہ نے پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے کی توثیق کردی۔ پاکستان اور کویت کے مابین دفاعی تعاون کا معاہدہ 11 جون 2023 کو طے پایا تھا، جس کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی شعبوں میں تعاون کا فروغ ہے۔ کویتی حکومت نے 19 جولائی اس معاہدے کی توثیق کی تھی۔
وفاقی کابینہ نے وزارتِ خزانہ کی سفارش پر نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کی منظوری دے دی۔ کابینہ کو نئے کرنسی نوٹس پر تفصیلی بریفنگ دی گئی. بریفنگ میں بتایا گیا کہ نئے کرنسی نوٹس کے ڈیزائن کیلئے ملک بھر سے مصوروں و ڈیزائنرز سے تجاویز لی گئیں اور وزیرِ اعظم کی جانب سے قائم کر دہ کابینہ کمیٹی نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے اس پر تفصیلی مشاورت کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ جعلی نوٹوں کی روک تھام کیلئے سیکیورٹی فیچرز بڑھانے کے ساتھ ساتھ جدید میٹریل کا استعمال کیا جائیگا جس سے نوٹوں کی استعمال کی معیاد میں بھی اضافہ ہوگا.
وفاقی کابینہ نے دس روپے کے بینک نوٹ کی جگہ دس روپے کا سکہ متعارف کرانے کی بھی منظوری بھی دے دی۔وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے حکومتی ملکیتی اداروں (CCOSOEs) کے 26 اکتوبر کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کردی۔
وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹیو کیسز (CCLC) کے 22 جنوری، 26 فروری، 5، 18 اور 27 اگست، 11 اور 22 ستمبر کے اجلاسوں میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی۔
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) November 4, 2026
وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ اجلاس میں کہا کہ حکومت نے پاکستان کی مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) مارکیٹ میں اصلاحات کرتے ہوئے دہائیوں سے قائم نام نہاد ایل پی جی مافیا کی اجارہ داری ختم کردی ہے اور شفاف فراہمی و قیمتوں کے تعین کے لیے مسابقتی نظام متعارف کرادیا ہے۔
وزیراعظم نے یہ بھی اعلان کیا کہ حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافے کی مجوزہ تجویز کو روک دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے آئل ریفائنریز کو آمادہ کیا گیا کہ وہ اپنے اضافی منافع میں سے حصہ دیں تاکہ اضافی مالی بوجھ صارفین پر منتقل نہ ہو۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے وزارتِ پیٹرولیم، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور متعلقہ حکومتی کمیٹی کی کوششوں کو سراہا، جنہوں نے آئل ریفائنریز کے ساتھ مذاکرات کرکے یہ انتظام ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث پہلے ہی عام شہریوں کے گھریلو بجٹ پر دباؤ ہے، ایسے میں پیٹرول کی قیمت میں مزید اضافے سے عوام پر اضافی بوجھ پڑتا، جسے حکومت نے روکنے کی کوشش کی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے ایل پی جی کی مارکیٹ میں دہائیوں سے قائم اجارہ داری ختم کرنے کے لیے نیا مسابقتی نظام متعارف کرایا ہے، جس میں سرکاری کمپنیوں کے ساتھ نجی درآمد کنندگان کو بھی کاروبار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
نئے طریقہ کار کے تحت کمپنیوں کو ایل پی جی درآمد کرکے مسابقتی بنیادوں پر فروخت کرنے کی اجازت ہوگی، جبکہ ملک میں پیدا ہونے والی ایل پی جی کو چھوٹی مقداروں میں تقسیم کرکے کھلی نیلامی کے ذریعے فروخت کیا جائے گا۔
ملک میں روزانہ 7 ہزار ٹن ایل پی جی کی ضرورت
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اجلاس کو بتایا کہ پاکستان میں روزانہ ایل پی جی کی مجموعی ضرورت تقریباً 7 ہزار ٹن ہے، جبکہ ملک میں مقامی سطح پر تقریباً 2 ہزار 500 ٹن ایل پی جی پیدا ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مقامی سطح پر پیدا ہونے والی ایل پی جی کی پہلی نیلامی آئندہ ہفتے منعقد کی جائے گی، جس کی کارروائی کیمروں کی نگرانی میں ہوگی تاکہ پورا عمل شفاف بنایا جاسکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مقامی ایل پی جی کی نیلامی سے حاصل ہونے والا منافع قومی خزانے میں جمع ہوگا اور بعد ازاں اسے صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ نئے نظام پر عمل درآمد میں مکمل شفافیت یقینی بنائی جائے۔
پیٹرول سبسڈی پروگرام دسمبر تک جاری رکھنے کا فیصلہ
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اپنے ایندھن سبسڈی پروگرام پر عمل درآمد کی مسلسل نگرانی کررہی ہے، جسے کم از کم دسمبر کے اختتام تک جاری رکھا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک اس پروگرام سے ڈیڑھ کروڑ افراد مستفید ہوچکے ہیں، جبکہ اس مقصد کے لیے تقریباً 28 ارب روپے خرچ کیے جاچکے ہیں۔
شہباز شریف کے مطابق اگر ایک گھرانے میں اوسطاً پانچ افراد تصور کیے جائیں تو اس پروگرام کے بالواسطہ فوائد تقریباً ساڑھے سات کروڑ افراد تک پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ انٹیلی جنس بیورو بھی سبسڈی پروگرام کی نگرانی کررہا ہے تاکہ کسی قسم کی بے ضابطگی یا بدعنوانی کو روکا جاسکے۔
وزیراعظم نے وزیر پیٹرولیم کو ہدایت کی کہ سبسڈی پروگرام میں بے ضابطگیوں میں ملوث پیٹرول پمپس کو بند کیا جائے اور ان پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں۔
وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ ان اقدامات پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ توانائی کی فراہمی برقرار رہے اور مہنگائی سے متاثرہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جاسکے۔



