قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاکستان پوسٹ آفس میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں اور مالی بے ضابطگیوں کے معاملے پر جے یو آئی (ف) کے رہنما ، مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اور سابق وفاقی وزیر مواصلات اسعد محمود کو طلب کر لیا۔
اسعد محمود کو شہباز شریف کی سربراہی میں قائم اتحادی حکومت میں 19 اپریل 2022ء کو وفاقی وزیر مواصلات مقرر کیا گیا تھا۔ اسی روز انہوں نے وفاقی کابینہ کے دیگر ارکان کے ہمراہ حلف اٹھایا۔ اسعد محمود 10 اگست 2023ء تک وزیر مواصلات کے عہدے پر فائز رہے۔ وزارت مواصلات کے ماتحت پاکستان پوسٹ آفس بھی ان کی وزارت کے انتظامی دائرہ کار میں شامل تھا۔
نیب راولپنڈی نے اسعد محمود کو 10 نومبر 2026ء کو صبح 11 بجے تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہو کر اپنا مؤقف پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
نیب کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق سابق وفاقی وزیر کے دورِ وزارت 2022ء اور 2023ء کے دوران پاکستان پوسٹ آفس میں ہونے والی بھرتیوں اور مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات جاری ہیں۔
نیب نوٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے پاکستان پوسٹ آفس میں مجموعی طور پر 3 ہزار 938 آسامیوں پر بھرتیوں کی اجازت دی تھی، تاہم مبینہ طور پر 4 ہزار 252 افراد کو بھرتی کیا گیا۔
نیب نوٹس میں 2 ہزار 646 ختم شدہ آسامیوں پر بھی بھرتیوں کا انکشاف ہوا ہے، ان تقرریوں کو کابینہ کمیٹی کی ہدایات کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
نیب کے مطابق بھرتیوں کیلیے کنٹریکٹ بنیادوں پر ٹیسٹنگ ایجنسی کے ذریعے امیدواروں کے انتخاب کی سفارش کی گئی تھی، تاہم اس کے برعکس بڑی تعداد میں مستقل تقرریاں کی گئیں۔ مستقل بھرتیوں کے نتیجے میں پاکستان پوسٹ آفس پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا معاملہ بھی تحقیقات کا حصہ ہے۔
نوٹس میں بعض امیدواروں کی مبینہ سیاسی وابستگی، جعلی اور بوگس دستاویزات کی بنیاد پر تقرریوں، زائد العمر امیدواروں کو بھرتی کرنے اور ڈومیسائل کوٹے کی خلاف ورزیوں سے متعلق الزامات بھی شامل ہیں۔
نیب نے واضح کیا ہے کہ طلبی کے نوٹس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں قومی احتساب آرڈیننس 1999ء کی دفعہ 31 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے بھی اسی معاملے پر اسعد محمود کو 2 نومبر کو بیان ریکارڈ کرانے کیلیے طلب کیا تھا۔
ایف آئی اے نے انکوائری نمبر 197/2026 کے تحت پاکستان پوسٹ آفس میں بھرتیوں کے دوران مبینہ بدعنوانی اور سنگین بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔
ایک ہی معاملے پر نیب اور ایف آئی اے کی الگ الگ تحقیقات کے باعث سابق وفاقی وزیر کیلیے قانونی مشکلات بڑھنے کا امکان ہے۔ بنیادی سوالات یہ ہیں کہ منظور شدہ آسامیوں سے زائد بھرتیاں کس کے حکم پر کی گئیں، ختم شدہ آسامیوں پر تقرریوں کی منظوری کس نے دی اور بھرتیوں کے طے شدہ طریقہ کار کی مبینہ خلاف ورزی کے ذمہ دار کون ہیں؟۔
خیال رہے مولانا فضل الرحمان نے حالیہ دنوں میں قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں وفاقی حکومت کو خصوصاً خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے معاملے، دہشتگردی کے خلاف حکومتی پالیسی اور حکومتی کارکردگی پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
مولانا فضل الرحمان اور وفاقی حکومت کے درمیان سیاسی کشیدگی اکتوبر کے آخری ہفتے میں اس وقت مزید بڑھ گئی جب اسلام آباد میں مولانا کی رہائشگاہ اور ان سے منسلک مدارس کو کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے نوٹس جاری کیے گئے۔
اس کے علاوہ پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی ( پی ڈی اے ) نے مفتی محمود مرکز کے ایک حصے سے متعلق نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ مرکز کا تقریباً 52 فٹ حصہ مبینہ طور پر رنگ روڈ کے مقررہ سیٹ بیک ایریا میں آتا ہے۔ انتظامیہ نے اسے سرکاری زمین اور عوامی گزرگاہ کی حدود میں تجاوزات قرار دیا۔



