وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ تہران میں ہونے والی میٹنگ وزارت دفاع سے متعلق نہیں تھی، وہاں کوئی وزیر دفاع نہیں آیا اس لئے میری وہاں پر ضرورت ہی نہیں تھی۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ دفاعی معاہدہ ایران میں ہو رہا ہے میٹنگ ہو رہی ہے لیکن وزیر دفاع اور وزیر خارجہ یہاں پاکستان میں بیٹھے ہوئے ہیں، کیا وہاں بھی وزارت داخلہ کی ڈیوٹی ہوتی ہے‘۔
واضح رہے کہ 26 اکتوبر کو مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک کے عہدیداروں کے درمیان ہونے والے اس اجلاس میں سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر داخلہ محسن نقوی اور ترکیہ کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن نے شرکت کی۔ اجلاس تہران میں ہوا، جہاں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی بھی ان کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔
خواجہ آصف نے آج قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز موجودہ صورتحال اور حکومت کے طرز عمل کے زاویے پر مولانا فضل الرحمان نے تبصرہ کیا، میں چاہتا تھا ان کا جواب اسی طرح ایوان کے سامنے رکھوں۔
مولانا فضل الرحمان نے میرے لئے ’کنسرن شو‘ کیا ہے جس پر ان کا مشکور ہوں،انہوں نے اس ضمن میں اور بھی باتیں کیں کہ وسیع القلبی کا مظاہرہ کریں،ان کے والد بڑی عظیم شخصیت تھے مگریہ خود نورا کشتی کے تحت اپوزیشن لیڈر بنے۔
جناب خواجہ آصف صاحب بھی تشریف فرما ہیں۔ وزیرِ دفاع!
دفاعی معاہدہ ایران میں ہو رہا ہے، میٹنگ ہو رہی ہے، دفاعی وزیر یہاں بیٹھا ہوا ہے، خارجہ وزیر یہاں بیٹھا ہوا ہے۔ وہاں بھی وزارتِ داخلہ کی ڈیوٹی ہوتی ہے؟ اپنی عزت و مقام، کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے۔امیر جےیوآئی کا قومی اسمبلی میں خطاب
#مولاناکی_للکار
#عوام_کاسامناکرو
#سنسرڈ_پارلیمنٹ_نامنظور
#حلف_سےوفاداری_نبھاؤ
#جمھوریت_میں_زباں_بندی_کیوں— Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan (@juipakofficial) October 28, 2026
وزیر دفاع نے کہا کہ تہران کے اندر کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہو رہا تھا، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سال سوا سال میں جنگ کی فتح کے بعد ایک کردار صلح کا ادا کیا ہے تاکہ خطے میں امن قائم ہو سکے،میں دفاع کے دونوں معاہدوں میں شامل تھا۔
آپ کا ماضی تضادات سے بھرا ہے اور یہ مجھ پر تنقید کررہے ہیں۔مجھے کہتے ہیں کہ ’کچھ شرم کرو، حیا کرو، آپ بھی کچھ شرم و حیا کریں‘۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ مولانا افغانستان جانے کی باتیں کررہے تھے وہ کون سے وزیر خارجہ تھے جو وہاں جارہے تھے؟وہ یہ صرف اپنی اہمیت کو بڑھانے کے لئے کررہے تھے ۔مولانا فضل الرحمان کے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ اختلافات اور تعاون بھی رہا ہے،وہ تمام جماعتوں کے ساتھ اقتدار کا حصہ بھی رہے ہیں ۔
خواجہ آصف نے کہا کہ جب میں پنڈی کے حق میں بولتا ہوں تو مجھے میری ماضی کی تقریر کو یاد کرایا جاتا ہے، ماضی کی میری تقریر اس دور کے حساب سے بالکل صحیح تھی، میں واحد سیاستدان ہوں جس نے ماضی کے حوالے سے معذرت بھی کی ہے، ماضی میں وہ (فضل الرحمان) ایل ایف او کے حوالے سے کیا کہتے تھے وہ بھی میں بتاؤں گا، وہ ایل ایف او کے تحت بننے والی حکومت کا حصہ رہے ہیں۔
کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان 10 سال کشمیر کمیٹی کے بھی چیئرمین رہے، وہ بتائیں ان کا کشمیر کے ساتھ کیا واسطہ ہے، انہوں نے دس سال کشمیر کے لیے کیا کیا؟ انہوں نے فضل الرحمان پر الزام لگایا کہ یہ لوگ تو پاکستان کی آزادی کے خلاف تھے، ہم نے ان کو جو اعزازات دیے وہ غلط تھے۔
خواجہ آصف کی تقریر کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شور شرابہ بھی کیا گیا، اس دوران انہوں نے کہا کہ میں کوئی ایسی بات نہیں کرنا چاہتا تھا جس سے صورتحال خراب ہو، کل ہم نے خاموشی کے ساتھ ان کی تقریر سنی ہے، انہوں نے ذاتی حملہ کیا مگر میں نے کل کچھ نہیں کہا۔
’مولانا کو دفاع کے لیے خواتین کی ضرورت پڑگئی ہے‘
اپوزیشن بینچوں سے خواتین کے شور شرابے پر خواجہ آصف نے کہا کہ مولانا کو دفاع کے لئے خواتین کی ضرورت پڑ گئی ہے، کوئی مرد مولانا صاحب کے دفاع کے لئے سامنے نہیں آرہا، مجھے معلوم ہے میری کیا اوقات ہے اور باقی لوگوں کی کیا ہے۔
خواجہ آصف نے انتباہ کیا کہ میری زبان نہ کھلوائیں،انہوں نے مذہب اور سیاست کو کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے، پی ڈی ایم حکومت میں انہوں نے جو کچھ کیا پھر سب بتا دوں گا۔
انہون نے مزید کہا کہ ”یہ خواتین ابھی بھی چپ نہیں کر رہیں، کیا مولانا کے پاس کوئی مرد نہیں بچا وہ خواتین سے دفاع کروا رہے ہیں، میں آپ لوگوں کو گھر چھوڑ کر آؤں گا، یہ اپنی لیڈر کی عزت نہیں کروانا چاہتے۔“
اس موقع پر اپوزیشن رکن عالیہ کامران نے کورم کی نشاندہی کی مگر ایوان کا کورم پورا نکلا۔



