ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات کی اور خطے میں سلامتی، استحکام اور اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ سمجھوتوں کی حمایت کا اظہار کیا۔
ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے مزید پھیلنے اور ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑے پیمانے پر دوبارہ لڑائی شروع ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا (IRNA) کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے ملاقات کے دوران کہا کہ ایران اسلامی ممالک کے اتحاد اور یکجہتی کو مضبوط بنانے کے مقصد سے کیے جانے والے کسی بھی سمجھوتے کی حمایت کرتا ہے۔ مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران مسلم ممالک کے درمیان اتحاد کو فروغ دینے کے لیے تعاون پر تیار ہے۔
ملاقات میں پاکستان کی نمائندگی چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی جبکہ سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن بھی شریک ہوئے۔ پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ تہران پہنچے تھے۔
ایرانی صدر کا علاقائی تعاون بڑھانے پر زور
ارنا کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران علاقائی تعاون کو مزید گہرا کرنے، اختلافات حل کرنے اور ایسے سمجھوتوں کی حمایت کے لیے تیار ہے جو خطے میں سلامتی اور ترقی کو فروغ دیں۔
Pezeshkian: Iran supports any agreement that strengthens unity among Islamic countries
https://t.co/YVYPTQIUbG https://t.co/fQdfnqPGFu
— IRNA News Agency ☫ (@IrnaEnglish) October 26, 2026
ملاقات میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی بھی موجود تھے۔
اس سے قبل پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے وفود کے سربراہان نے محسن رضائی کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کیے تھے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ان ملاقاتوں میں علاقائی صورت حال اور سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
تاہم ایرانی صدر کی ملاقات کے بعد کسی باضابطہ معاہدے یا جنگ کے خاتمے کے لیے کسی حتمی پیش رفت کا اعلان نہیں کیا گیا۔ ایرانی ذرائع ابلاغ نے بھی یہ واضح نہیں کیا کہ فریقین کے درمیان جاری تنازع کے بنیادی اختلافات پر کوئی اتفاق رائے پیدا ہوا ہے یا نہیں۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد اہم سفارتی رابطہ
تہران میں ہونے والی ملاقات کو اس لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ اس میں ایران کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تین رکن ممالک پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ سطحی نمائندے شریک ہوئے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اگست میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں شدت آنے کے بعد یہ چاروں ممالک کے درمیان اس نوعیت کا پہلا اعلیٰ سطحی اجلاس ہے جس میں ایرانی قیادت بھی براہِ راست شریک ہوئی۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکرٹری علی باقری کنی نے مذاکرات سے قبل ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ تہران میں چار ملکی اجلاس خطے میں مقامی سطح پر سلامتی کا نظام تشکیل دینے کی جانب مؤثر اور اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ پھیلنے کے خدشات
تہران میں سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں تیز ہوئی ہیں جب ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے بعد خطے میں تنازع پھیل چکا ہے۔ جنگ کا آغاز فروری میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ہوا تھا، جس کے بعد خطے کے دیگر ممالک بھی اس کے اثرات کی زد میں آئے۔
ایرانی حملوں میں متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جبکہ یمن کے ایران نواز حوثیوں نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور توانائی کی تنصیبات پر حملوں میں شدت پیدا کی ہے۔
ان حملوں اور بحری نقل و حمل پر پابندیوں کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارت متاثر ہوئی ہے اور عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔
رپورٹ کے مطابق ریاض کے مرکزی ہوائی اڈے پر رواں ماہ حوثیوں کے ایک حملے میں 13 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا، جس کے بعد ہوائی اڈے پر آپریشن معطل ہوگیا تھا۔ سعودی عرب نے اتوار کو دو ٹرمینلز پر آپریشن دوبارہ شروع کرنے کی اطلاع دی، تاہم حوثیوں کی جانب سے تازہ حملوں کی دھمکیاں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
ان حالات نے سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے سفارتی حل کی اہمیت بڑھا دی ہے تاکہ ایران سے متعلق جنگ مزید وسیع ہونے سے روکی جا سکے۔
پاکستان اور قطر کی ثالثی کی کوششیں
پاکستان اس سے قبل قطر کے ساتھ مل کر واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کی کوششیں بھی کرتا رہا ہے۔ جون میں ثالثی کے ذریعے طے پانے والے ایک عبوری سمجھوتے کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنا اور وسیع تر معاہدے کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا تھا، تاہم بعد میں یہ سمجھوتہ برقرار نہ رہ سکا۔
پاکستان میں ایران کے سفیر نے اتوار کو کہا تھا کہ تہران امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے اب بھی تیار ہے۔
تہران میں صدر مسعود پزشکیان کی پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے وفود سے ملاقات کو اسی وسیع تر سفارتی کوشش کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور علاقائی سلامتی کے لیے مشترکہ لائحۂ عمل تلاش کرنا ہے۔
تاہم مذاکرات کے بعد کسی نئے معاہدے یا جنگ بندی کا اعلان سامنے نہیں آیا، اس لیے اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا یہ رابطے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی اور خطے میں پائیدار امن کے لیے عملی پیش رفت کا باعث بن سکیں گے یا نہیں۔



