بھارتی عدالت نے بالی ووڈ اداکار عمران خان کو ملک چھوڑنے کے حکومتی حکم سے عارضی ریلیف دیتے ہوئے 7 دسمبر تک بھارت میں قیام کی اجازت دے دی۔
امریکی شہریت رکھنے والے 43 سالہ اداکار نے ممبئی میں انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے خلاف احتجاج میں شرکت پر غیر مشروط معافی مانگ لی، جس کے بعد بمبئی ہائی کورٹ نے حکومت کے ملک چھوڑنے کے حکم کو معطل رکھنے کی مدت میں توسیع کر دی۔
بھارتی میڈیا اور قانونی ویب سائٹ لائیو لا کے مطابق عمران خان کو 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے گزشتہ ماہ ممبئی میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ہونے والے احتجاج میں شرکت کی، جسے بھارتی حکومت نے امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
گزشتہ ہفتے بمبئی ہائی کورٹ نے حکومتی حکم پر 2 نومبر تک عارضی روک لگائی تھی تاہم پیر کو سماعت کے دوران عدالت نے یہ مہلت بڑھا کر 7 دسمبر کر دی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ عمران خان بھارتی نژاد ہونے کے باوجود غیر ملکی شہری ہیں اور انہیں سیاسی احتجاج میں شرکت یا اس کا حق حاصل نہیں، عدالت کے مطابق ووٹر لسٹوں پر نظرثانی کے معاملے سے وہ براہ راست متاثر بھی نہیں ہوتے۔
عدالت نے اداکار سے غیر مشروط معافی طلب کرتے ہوئے تحریری یقین دہانی بھی مانگی کہ وہ مستقبل میں ایسے سیاسی احتجاج میں شرکت نہیں کریں گے۔
عمران خان کے وکیل نے عدالت کو یقین دلایا کہ ان کے مؤکل فوری طور پر تحریری یقین دہانی جمع کرائیں گے اور آئندہ نہ خود ایسے مظاہروں میں شریک ہوں گے اور نہ ہی دوسروں کو اس میں شرکت کے لیے اکسانے یا ترغیب دینے کا سبب بنیں گے۔
ACTOR IMRAN KHAN APOLOGISES TO BOMBAY HC, VOWS NOT TO JOIN FUTURE PROTESTS
The Bombay High Court told Imran Khan: “You aren’t an Indian citizen. You’re not even remotely affected by SIR, therefore you have no right to participate in these protests. You will have to apologise because all this is instigation.”
Khan tendered an unconditional apology, saying he was only at the protest site as an observer and did not participate. He also undertook not to join or instigate anyone to join future protests.
“I have utmost love and respect for this great nation and its Constitution,” he said.
— Subodh Kumar (@kumarsubodh_) November 2, 2026
عدالت نے حکومتی حکم کی معطلی کو اس وقت تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جب تک وفاقی ادارہ فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس (FRRO) عمران خان کا مؤقف سن کر اس معاملے پر فیصلہ نہیں کر لیتا۔
عمران خان کو بھارت چھوڑنے کا حکم کیوں دیا گیا؟
اس معاملے کا آغاز 10 اکتوبر 2026 کو ممبئی کے اگست کرانتی میدان میں ہونے والے ایک احتجاج سے ہوا، یہ مظاہرہ بھارت کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کیا گیا تھا، جس میں انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
عمران خان بھی اس مقام پر موجود تھے اور ممبئی پولیس نے انہیں دیگر افراد کے ساتھ حراست میں لیا تھا۔ بعد ازاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما کریٹ سومیا نے پولیس میں شکایت درج کرائی کہ امریکی شہریت رکھنے والے عمران خان نے سیاسی احتجاج میں شرکت کرکے غیر ملکی شہریوں سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔
دی انڈین ایکسپریس کے مطابق پولیس نے شکایت فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس (FRRO) کو بھجوا دی، جس کے بعد 14 اکتوبر کو اداکار کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کی ہدایت کی گئی۔
تاہم عمران خان نے اس حکومتی اقدام کو غیر آئینی اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع کیا، ان کا مؤقف تھا کہ انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیے بغیر ملک چھوڑنے کا حکم جاری کیا گیا۔ ان کی جانب سے یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ وہ احتجاج کے منتظم یا باقاعدہ شریک نہیں تھے بلکہ وہاں ہونے والی صورتحال دیکھنے گئے تھے۔
ووٹر لسٹوں پر نظرثانی کا تنازع کیا ہے؟
عمران خان جس احتجاج کے معاملے میں قانونی مشکلات کا شکار ہوئے، اس کا تعلق بھارت میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی یعنی Special Intensive Revision (SIR) سے ہے۔
بھارتی الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹوں کی جانچ پڑتال اور درستگی کے لیے یہ عمل شروع کیا تھا، جس کا مقصد مبینہ طور پر جعلی، دہرے اور نااہل ووٹرز کے اندراجات ختم کرنا اور انتخابی فہرستوں کو درست بنانا ہے۔
تاہم اپوزیشن جماعتوں اور مختلف سماجی تنظیموں نے اس عمل پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔اپوزیشن کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹوں سے بڑی تعداد میں نام خارج ہونے کے باعث اہل ووٹرز بھی اپنے حق رائے دہی سے محروم ہو سکتے ہیں۔ ناقدین نے خاص طور پر غریب، اقلیتی اور کم دستاویزات رکھنے والے شہریوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
دوسری جانب بھارتی الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی قانونی اور انتظامی ضرورت ہے تاکہ ووٹر لسٹوں میں موجود غلطیوں کو دور کیا جا سکے۔
رائٹرز کے مطابق انتخابی فہرستوں کے سافٹ ویئر اور ناموں کے اخراج سے متعلق شکایات پر الیکشن کمیشن نے ستمبر 2026 میں جائزے کا حکم بھی دیا تھا۔
کیا عمران خان کو غیر ملکی شہری ہونے کے باوجود ووٹ کا حق حاصل ہے ؟
عمران خان امریکی شہری ہیں اور ان کے پاس اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (OCI) کارڈ بھی موجود ہے۔بھارت میں 2005 میں متعارف کرائی گئی او سی آئی اسکیم کے تحت بھارتی نژاد غیر ملکی شہریوں کو طویل المدتی اور متعدد بار بھارت آنے جانے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
تاہم یہ کارڈ بھارتی شہریت نہیں دیتا۔ او سی آئی کارڈ رکھنے والے افراد کو ووٹ ڈالنے، انتخابات میں حصہ لینے اور بعض دیگر سیاسی حقوق حاصل نہیں ہوتے۔
بھارتی قوانین کے تحت غیر ملکی شہریوں کی سیاسی سرگرمیوں اور ملک میں قیام سے متعلق حکومت کو اختیارات حاصل ہیں، اسی بنیاد پر عمران خان کے خلاف امیگریشن قوانین کے تحت کارروائی کی گئی۔
ان کے معاملے میں بھارتی حکومت نے امیگریشن اینڈ فارنرز ایکٹ 2025 کی متعلقہ دفعات کا حوالہ دیا تھا۔



