سوڈان نے ڈرون حملوں کیخلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور افریقی یونین کی امن و سلامتی کونسل میں باضابطہ شکایات درج کراتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ایتھوپیا اپنی سرزمین سے سوڈانی شہروں اور فوجی تنصیبات پر ڈرون حملوں کی اجازت دے رہا ہے، جن کے نتیجے میں سیکڑوں شہری اور فوجی ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں۔
سوڈانی فوج اپریل 2023 سے نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے اور متعدد بار ایتھوپیا پر الزام عائد کر چکی ہے کہ وہ آر ایس ایف کی معاونت کرتے ہوئے اپنی سرزمین سے ڈرون حملے کروا رہا ہے۔
دوسری جانب ایتھوپیا ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور اس نے سوڈانی فوج پر الزام لگایا ہے کہ وہ ٹیگرے پیپلز لبریشن فرنٹ (ٹی پی ایل ایف) سے منسلک باغیوں کی حمایت کر رہی ہے، تاہم خرطوم اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سوڈانی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں گرائے گئے ڈرونز کے ملبے، پروازوں کے ریکارڈ اور فوجی دستاویزات سے ایسے شواہد ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوڈان پر حملوں کے لیے ایتھوپیا کی سرزمین استعمال کی جا رہی ہے۔
#Sudan has formally filed complaints against Ethiopia with the @UN Security Council and the African Union Peace and Security Council over #RSF drone attacks allegedly launched from #Ethiopian territory.
Sudan’s Foreign Ministry says it submitted documents detailing strikes on civilian facilities, power stations and vital infrastructure. #Khartoum has demanded that Ethiopia halt the alleged cross-border operations.
https://t.co/VJ7wl42bEb— Sudan Axis (@sudanaxis) November 1, 2026
سوڈان کی فوج کے زیرِ قیادت عبوری خودمختار کونسل نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 15 فروری سے 27 اکتوبر کے درمیان ڈرون حملوں کے 70 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں یکطرفہ حملوں کیلئے استعمال ہونے والے 187 ڈرونز اور ڈرونز سے داغے گئے 82 گولہ بارود کے ہتھیار شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں 484 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ سوڈانی فوج کے 176 اہلکار ہلاک اور مزید 200 زخمی ہوئے۔
رپورٹ میں الزام لگایا گیا کہ فروری 2026 سے مسلح ڈرون ایتھوپیا کی سرزمین سے پرواز کرکے سوڈانی شہروں اور شہری آبادیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ سوڈان نے ایتھوپیا میں تین مبینہ ڈرون لانچنگ مقامات کی نشاندہی بھی کی ہے، جن میں مغربی ایتھوپیا کا اسوسا ایئرپورٹ، سرحدی علاقے کرموک گیزن اور شمال مغربی ریاست امہارا میں واقع بہیر دار ایئر بیس شامل ہیں۔
سوڈانی حکام کے مطابق حالیہ مہینوں میں حملوں کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور صرف اکتوبر کے مہینے میں 28 حملے کیے گئے، جن میں 97 ڈرون استعمال ہوئے۔
9 اکتوبر کو سوڈان کی ریاست بلیو نائل کے سرحدی علاقے واد الماہی میں بے گھر خاندانوں پر حملے میں 30 شہری ہلاک اور 100 زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں 26 خواتین اور 4 بچے شامل تھے۔
رپورٹ میں سب سے ہلاکت خیز واقعات میں سوڈان اور جنوبی سوڈان کی سرحد پر واقع متنازع علاقے ابیئی میں ڈرون حملہ بھی شامل ہے جس کے نتیجے میں کم از کم 73 افراد ہلاک ہوئے۔
اسی طرح 19 اکتوبر کو دارالحکومت خرطوم میں ایک حملے کے نتیجے میں 3 بچے ہلاک ہوئے، جبکہ 26 اور 27 اکتوبر کو ہونے والے حملوں میں بجلی کے 6 پاور اسٹیشنز کو نشانہ بنایا گیا، جس سے وہ غیر فعال ہو گئے۔
رائٹرز کے مطابق سوڈان میں جاری جنگ کے دوران سوڈانی فوج اور آر ایس ایف دونوں نے ڈرونز کا استعمال بڑھا دیا ہے۔ یہ ڈرون سیکڑوں کلومیٹر دور موجود اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان کے ذریعے فوجیوں کو براہِ راست خطرے میں ڈالے بغیر حملے کیے جا سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق رواں سال کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران سوڈان بھر میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں 1100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ سوڈان میں اپریل 2023 سے فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان اقتدار اور فوجی کنٹرول کے حصول کی جنگ جاری ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں، لاکھوں افراد کی نقل مکانی اور سنگین انسانی بحران جنم لے چکا ہے۔



