سوڈان اور جنوبی سوڈان کی سرحد پر واقع متنازع علاقے ابیئی میں ڈرون حملے کے نتیجے میں کم از کم 73 افراد ہلاک ہو گئے۔
ابیئی تیل سے مالا مال علاقہ ہے، جس کا انتظام جنوبی سوڈان اور سوڈان مشترکہ طور پر چلاتے ہیں، تاہم دونوں ممالک اس پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقے میں اکثر تشدد کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں، جن میں عموماً حریف نسلی گروہوں یا مسلح ملیشیاؤں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔
گزشتہ سال بھی ابیئی میں اقوام متحدہ کے ایک اڈے پر علیحدگی پسند مسلح گروہوں کے ڈرون حملے میں بنگلہ دیش کے 6 امن اہلکار ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے تھے، بنگلہ دیش کی مسلح افواج نے اس واقعے کی تصدیق کی تھی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مشترکہ انتظام کے تحت چلنے والے اس علاقے کے قائم مقام وزیر اطلاعات یوہان اکول نگور نے حملے کا الزام سوڈانی فوج پر عائد کیا ہے۔
سوڈانی فوج نے متعدد ڈرون مار گرائے
یوہانا اکول نگور نے رائٹرز کو بتایا، ”تقریباً 73 افراد ہلاک اور 19 زخمی ہوئے ہیں۔ سوڈانی مسلح افواج نے گزشتہ روز متعدد ڈرون مار گرائے تھے۔“
جنوبی سوڈان کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈرونز نے ابیئی شہر کے شمال میں واقع ایک بازار کو نشانہ بنایا، تاہم وزارت خارجہ نے شہری ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی۔
وزارت خارجہ کے مطابق جوبا میں تعینات سوڈانی سفیر کو طلب کرکے حملے پر شدید احتجاج اور گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
🚨 South Sudan’s Ministry of Foreign Affairs condemns the terrorist drone attack carried out by Al-Burhan’s militia on Al-Na’am border market, which resulted in the death and injury of hundreds of civilians.
#Sudan #SaveSudan #KeepEyesOnSudan https://t.co/6bRlFxpA7B— Inside Darfur (@InsideDarfur) October 19, 2026
دوسری جانب طبی امدادی ادارے ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ قریبی امیتھ بیک اسپتال میں 20 سے زائد زخمیوں کا علاج کر رہا ہے۔
اسپتال میں کتنے مریض لائے گئے؟
اسپتال میں ایم ایس ایف کی طبی سرگرمیوں کے منتظم کرسچن لِنڈاؤر نے کہا، ”اب تک ہمارے پاس 20 سے زائد مریض لائے جا چکے ہیں، جن میں کئی کی حالت تشویشناک ہے۔ جھلسنے والے افراد کو بھی داخل کیا گیا ہے۔ ہم ہنگامی طبی امداد کے ساتھ سرجری اور زخموں کی مرہم پٹی کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔“
واضح رہے سوڈان اپریل 2023 سے سوڈانی مسلح افواج اور نیم فوجی دستے ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ اس تنازع میں مقامی مسلح ملیشیائیں اور غیر ملکی طاقتیں بھی شامل ہو چکی ہیں، جس کے باعث ملک کے وسیع علاقے تباہ ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے سوڈان کے بحران کو دنیا کا بدترین انسانی بحران قرار دیا ہے۔


