اردن نے گزشتہ ہفتے چرچ پر ہونے والے حملے کے ملزمان کے جنوبی شام میں سرگرم شدت پسند گروہوں سے روابط کا سراغ ملنے کے بعد شام کے جنوبی علاقوں میں فضائی حملے کیے، جن میں 3 بچوں اور ایک خاتون سمیت 7 افراد ہلاک اور 3 زخمی ہو گئے۔
اردن میں جمعے کو دارالحکومت عمان سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع کرک کے گاؤں حمود کے ایک یونانی آرتھوڈوکس چرچ میں میت کی آخری رسومات کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک اور 34 زخمی ہو گئے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق مسلح افراد نے کئی منٹ تک فائرنگ کی۔ واقعے کے بعد اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے سکیورٹی فورسز کو سخت کارروائی کا حکم دیا تھا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اردن کی مسلح افواج نے بتایا کہ شام کی حکومت کیساتھ رابطہ کرنے کے بعد فضائی کارروائی شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر کی گئی۔
دوسری جانب شامی وزارت خارجہ نے اردن کے اس مؤقف سے مختلف بیان دیتے ہوئے کہا کہ اس نے حملوں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ دمشق نے پیشگی رابطہ کاری کے بغیر حملے کیے جانے پر اردن کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔ وزارت نے سرحدی علاقوں میں زمینی اور سکیورٹی رابطہ کاری کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
شام کی سول ڈیفنس سروس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق اردن کے فضائی حملوں میں درعا اور سویدا صوبوں کے دیہی علاقوں میں چار مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کے بعد امدادی ٹیموں نے متاثرہ مقامات پر کارروائیاں کیں۔
فضائی حملوں کے بعد شام نے منگل کو اردن کے ساتھ اپنی واحد مسافر اور تجارتی سرحدی گزرگاہ نصیب کراسنگ بند کر دی۔ شامی جنرل اتھارٹی برائے سرحدی گزرگاہوں اور کسٹمز کے مطابق درعا صوبے میں زمینی صورتِ حال کے پیش نظر دونوں سمتوں میں مسافروں اور تجارتی آمدورفت معطل کر دی گئی۔
اس سے قبل پیر کو اردن کے اعلیٰ سکیورٹی حکام نے بتایا تھا کہ چرچ پر حملے کے سلسلے میں فائرنگ کے تبادلے کے بعد 3 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتار افراد میں دو بھائی اور ان کا بہنوئی شامل ہیں۔
اردن کے ڈائریکٹر پبلک سکیورٹی میجر جنرل عبیداللہ المعایطہ کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے مشتبہ افراد کو کرک گورنریٹ کے علاقے الجدَیدہ میں ایک خالی مکان میں تلاش کیا۔ ان کے بقول ملزمان نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کرتے ہوئے فورسز پر حملہ کیا، جس پر جوابی فائرنگ کی گئی۔ تینوں مشتبہ افراد زخمی ہونے کے بعد گرفتار کر لیے گئے۔
حکام کے مطابق کارروائی میں کوئی سکیورٹی اہلکار زخمی نہیں ہوا، جبکہ ملزمان کے قبضے سے متعدد آتشیں اسلحہ اور گولیاں بھی برآمد کی گئیں۔
اردن کے وزیر داخلہ مازن الفریایہ نے کہا کہ ملک دہشتگردی کو برداشت نہیں کرے گا۔ تحقیقات جاری ہیں اور اب تک ایسے شواہد سامنے نہیں آئے جن سے گرفتار افراد کے دیگر شدت پسند گروہوں یا سیلز سے روابط ثابت ہوں۔
خیال رہے چرچ پر حملے کی تاحال کسی گروہ یا تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ شدت پسندی کے خلاف جنگ میں امریکا کے شراکت دار اردن ماضی میں بھی اسلامی شدت پسندوں کی جانب سے حملوں کی منصوبہ بندی ناکام بنا چکا ہے۔ تاہم سکیورٹی حکام نے پریس کانفرنس کے دوران کسی مخصوص اسلامی شدت پسند تنظیم کا نام نہیں لیا۔


