پاکستان نے عالمی مالیاتی نظام میں ترقی پذیر ممالک کی مؤثر نمائندگی اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے بین الحکومتی گروپ آف ٹوئنٹی فور (جی 24) کی صدارت سنبھال لی ۔
جی 24 (بین الحکومتی گروپ آف ٹوئنٹی فور) ترقی پذیر ممالک کا ایک بین الحکومتی گروپ ہے جس کا مقصد عالمی مالیاتی اور معاشی امور پر ترقی پذیر معیشتوں کے مشترکہ مفادات کی نمائندگی کرنا ہے۔
جی 24 میں پاکستان اور بھارت کے علاوہ الجزائر، ارجنٹائن، برازیل، کولمبیا، جمہوریہ کانگو، آئیوری کوسٹ، ایکواڈور، مصر، ایتھوپیا، گبون، گھانا، گوئٹے مالا، ایران، کینیا، لبنان، میکسیکو، مراکش، نائیجیریا، پیرو، فلپائن، سری لنکا اور وینزویلا شامل ہیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سربراہی سنبھالنے کو ایک بڑی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ترقی پذیر معیشتوں کی اجتماعی آواز مضبوط بنانے اور عالمی مالیاتی نظام کو بدلتے ہوئے معاشی حالات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا۔
Pakistan Assumes G-24 Chairmanship, Calls for a Stronger, More Inclusive and Development-Oriented Global Financial System
Finance Minister Muhammad Aurangzeb outlines three priorities: development-led growth, stronger representation for developing economies and reform of international financial architecture
Pakistan today assumed the Chairmanship of the Intergovernmental Group of Twenty-Four (G-24), reaffirming its commitment to strengthening the collective voice of developing economies and advancing a more responsive, fair and development-oriented international financial system.
Federal Minister for Finance and Revenue, Senator Muhammad Aurangzeb, described the Chairmanship as a profound responsibility, calling for renewed international cooperation, stronger multilateral institutions and reinforced global commitments to address climate shocks, development financing gaps and global economic fragmentation.
“The future of developing economies is not peripheral to the future of the global economy. It is central to it,” the Finance Minister stated, highlighting the immense potential of emerging and developing nations as drivers of investment, innovation, entrepreneurship and global growth.
Outlining Pakistan’s agenda, Senator Aurangzeb identified three strategic priorities for its Chairmanship:
First, placing development at the centre of global economic policymaking. Macroeconomic stability must serve as a foundation for investment, productivity, employment and shared prosperity, enabling developing and low-income economies to move beyond crisis management towards sustainable growth.
Second, strengthening multilateral frameworks for the collective benefit of members through more inclusive and representative institutions. Pakistan will advocate for more equitable and fair governance, meaningful participation in decision-making and greater responsiveness of the Bretton Woods institutions to the evolving needs and realities of their members.
Third, advancing a development-oriented international financial architecture. Priorities will include affordable and timely development financing, sustainable debt solutions, stronger global financial safety nets, climate resilience and greater mobilisation of public and private capital.
“Our task is to ensure that the immense potential of developing economies is not constrained by an international financial architecture that has yet to fully adapt to a changing world,” Senator Aurangzeb emphasised.
Drawing on Pakistan’s own experience of economic stabilisation, reform and resilience, the Finance Minister underscored the importance of aligning financial stability with long-term development objectives, while ensuring that reforming economies have the necessary financing and policy space to pursue sustainable growth.
He reaffirmed that Pakistan’s Chairmanship would be guided by the G-24’s longstanding principles of consultation, consensus and collective advocacy, working closely with members across Africa, Asia, Latin America and the Caribbean, alongside the IMF, World Bank and other international partners, to translate shared priorities into practical outcomes.
Senator Aurangzeb also acknowledged Nigeria’s leadership as outgoing Chair and expressed Pakistan’s commitment to building on the Group’s progress.
The Finance Minister stressed that the effectiveness of collective leadership must be judged by tangible development outcomes.
“The true measure of our collective leadership will not simply be the strength of our voice, but the difference that voice makes,” he stated.
He reaffirmed Pakistan’s commitment to advancing the G-24’s mission “from collective voice to collective influence, and from collective influence to meaningful progress.”
— Ministry of Finance, Government of Pakistan (@Financegovpk) November 1, 2026
انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر معیشتوں کا مستقبل عالمی معیشت کے مستقبل سے الگ نہیں بلکہ اس کا بنیادی حصہ ہے۔ ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر معیشتوں میں سرمایہ کاری، جدت، کاروبار اور عالمی ترقی کو آگے بڑھانے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔
وزیر خزانہ نے جی 24 کی سربراہی کے لیے پاکستان کی 3 اہم ترجیحات کا اعلان کیا۔
پہلی ترجیح: ترقی کو عالمی معاشی پالیسیوں کا مرکز بنانا
محمد اورنگزیب نے کہا کہ عالمی معاشی پالیسیوں میں ترقی کو مرکزی حیثیت دی جائے گی۔ معاشی استحکام کو سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت، روزگار کے مواقع اور مشترکہ خوشحالی کی بنیاد بنانا ضروری ہے تاکہ ترقی پذیر اور کم آمدن والے ممالک پائیدار معاشی ترقی کی جانب بڑھ سکیں۔
دوسری ترجیح: ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی مضبوط بنانا
وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان کثیرالجہتی عالمی اداروں میں ترقی پذیر ممالک کی زیادہ مؤثر اور منصفانہ نمائندگی کے لیے آواز اٹھائے گا۔
اس سلسلے میں فیصلہ سازی میں بامعنی شرکت، مساوی حکمرانی اور بریٹن ووڈز اداروں کو رکن ممالک کی بدلتی ضروریات اور زمینی حقائق کے مطابق زیادہ مؤثر بنانے پر زور دیا جائے گا۔
تیسری ترجیح: عالمی مالیاتی نظام کو ترقی دوست بنانا
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی تیسری ترجیح ترقی پر مبنی عالمی مالیاتی نظام کو آگے بڑھانا ہے جس کے تحت سستے اور بروقت ترقیاتی قرضوں کی فراہمی، قرضوں کے پائیدار حل، عالمی مالیاتی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت اور سرکاری و نجی سرمایہ کاری میں اضافے پر توجہ دی جائے گی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ترقی پذیر معیشتوں کی بے پناہ صلاحیت ایسے عالمی مالیاتی نظام کی وجہ سے محدود نہ ہو جو بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں کے مطابق مکمل طور پر خود کو ڈھالنے میں ابھی کامیاب نہیں ہوسکا۔
انہوں نے پاکستان کے معاشی استحکام، اصلاحات اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مالیاتی استحکام کو طویل مدتی ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔
ان کے مطابق اصلاحات کرنے والی معیشتوں کو پائیدار ترقی کے لیے ضروری مالی وسائل اور پالیسی سازی کی گنجائش فراہم کی جانی چاہیے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی سربراہی جی 24 کے دیرینہ اصولوں، مشاورت، اتفاق رائے اور اجتماعی مؤقف پر مبنی ہوگی۔
پاکستان افریقا، ایشیا، لاطینی امریکا اور کیریبین کے رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گا جبکہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)، عالمی بینک اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے مشترکہ ترجیحات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
وزیر خزانہ نے سبکدوش ہونے والے چیئرمین نائیجیریا کی قیادت کو بھی سراہا اور گروپ کی سابقہ پیش رفت کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیر خزانہ نے زور دیا کہ اجتماعی قیادت کی کامیابی کو صرف بیانات یا مؤقف کی مضبوطی سے نہیں بلکہ ترقی کے لیے حاصل ہونے والے عملی نتائج سے جانچا جانا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ اصل کامیابی اس بات میں ہے کہ اجتماعی آواز سے کتنا فرق پیدا ہوتا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان جی 24 کے مشن کو اجتماعی آواز سے اجتماعی اثرورسوخ اور پھر بامعنی پیش رفت کی جانب لے جانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا۔
دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف نے پاکستان کو بین الحکومتی گروپ آف ٹوئنٹی فور کی صدارت ملنے پر اظہار مسرت کیا اور کہا کہ صدارت ملنا عالمی معاشی منظرنامے میں پاکستان کےمؤثر کردار کااعتراف ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی پاکستان کو بین الحکومتی گروپ آف ٹوئنٹی فور (G-24) کی چیئرمین شپ ملنے پر اظہار مسرت، اسے عالمی اقتصادی منظرنامے پر پاکستان کے مؤثر کردار کے اعتراف کا اہم سفارتی سنگِ میل قرار دیا.
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کو بین الحکومتی گروپ آف ٹوئنٹی فور (G-24) کی چیئرمین شپ ملنے پر دلی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک اہم سفارتی سنگِ میل قرار دیا ہے، جو عالمی اقتصادی امور میں پاکستان کے مؤثر کردار اور آواز کو مزید تقویت دے گا۔
وزیراعظم نے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور وزارتِ خزانہ کی پوری ٹیم کی انتھک محنت، مؤثر سفارت کاری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم نے عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سالانہ اجلاسوں کے دوران پاکستان کے مؤثر کردار اور ترقی پذیر ممالک کی اقتصادی قیادت میں پاکستان کو نمایاں مقام دلانے کے لیے وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو قابلِ ستائش قرار دیا۔وزیراعظم نے کہا کہ G-24 کی چیئرمین شپ پاکستان کو عالمی مالیاتی نظام میں ضروری اصلاحات، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے منصفانہ مالی معاونت اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے پائیدار ترقی کے مواقع کے فروغ کے حوالے سے مؤثر کردار ادا کرنے کا اہم پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) November 1, 2026
وزیراعظم نے وزیرخزانہ اور ان کی ٹیم کی محنت، سفارتکاری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی ۔


