جرمنی کے مختلف شہروں میں بہتر تعلیمی سہولیات اور مہنگائی کیخلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران مالیاتی مرکز فرینکفرٹ میں نقاب پوش مظاہرین نے دکانوں میں لوٹ مار شروع کر دی۔
جرمنی میں ہونے والے احتجاج سے قبل فرانس اور البانیہ سمیت یورپ کے دیگر ممالک میں بھی جنریشن زی کی قیادت میں مظاہروں کی لہر دیکھنے میں آئی۔
فرانس میں ستمبر سے شروع ہونے والے طلبہ کے احتجاج کا بنیادی محرک تعلیمی نظام میں درپیش مسائل تھے، جن میں تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی، کلاس رومز میں گنجائش سے زیادہ طلبہ اور تعلیمی سہولیات کا فقدان تھا۔ بعد ازاں یہ احتجاج مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں، رہائش کے اخراجات اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف وسیع تحریک میں تبدیل ہوگیا، جس کے دوران بعض شہروں میں ہنگامہ آرائی، آتش زنی اور لوٹ مار کے واقعات بھی پیش آئے۔
دوسری جانب البانیہ میں طلبہ نے سرکاری سطح پر مبینہ بدعنوانی، یونیورسٹیوں کے بڑھتے اخراجات، مالی معاونت کی کمی، بے روزگاری اور تعلیم کے ناقص معیار پر وزیراعظم ایڈی راما کی حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔
This is multicultural Germany, Frankfurt right now. Mob smashes several store, loots sneakers and runs through the streets with stolen boxes. This is not a protest. This is pure criminality. https://t.co/sTk8WsNWbB
— RadioGenoa (@RadioGenoa) October 31, 2026
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جرمنی کے 34 شہروں بشمول برلن، فرینکفرٹ اور میونخ میں ”جین زی ریگلٹ“ نے احتجاجی مظاہرے کیے جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔
جین زی ریگلٹ گروپ کا نام جرمن زبان میں ”جنریشن زی معاملات اپنے ہاتھ میں لے رہی ہے“ کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔
مظاہرین نے لازمی فوجی سروس کی مخالفت کرتے ہوئے تعلیم کے شعبے میں زیادہ سرمایہ کاری، صحت کی سہولیات میں بہتری اور نوجوانوں پر بڑھتے معاشی دباؤ میں کمی کا مطالبہ کیا۔ فرینکفرٹ میں احتجاج کے دوران دو دکانوں کو لوٹ لیا گیا جبکہ متعدد دیگر دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا۔
فرینکفرٹ پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ شہر میں پرتشدد واقعات جاری ہیں، متعدد دکانوں کے شیشے توڑ دیے گئے ہیں، مظاہرین کی جانب سے ایمرجنسی سروسز پر پیٹرول بم بھی پھینکے جا رہے ہیں۔ پولیس نے شہریوں کو شہر کے مرکز سے دور رہنے یا علاقہ چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔
پولیس اور منتظمین کے اعداد و شمار کے مطابق فرینکفرٹ، میونخ اور برلن میں مجموعی طور پر تقریباً 18 ہزار افراد نے مظاہروں میں شرکت کی، جبکہ منتظمین نے ابتدائی طور پر ایک لاکھ 82 ہزار افراد کی شرکت کی توقع ظاہر کی تھی۔
بندرگاہی شہر ہیمبرگ میں بعض رکاوٹوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔ برلن میں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے تحریک کی ترجمان لینا فریڈرک نے کہا کہ وہ جنگ اور جبر کے بجائے امن اور آزادی کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ نوجوان بہتر صحت اور تعلیمی نظام، لازمی فوجی سروس کے خاتمے اور ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم چاہتے ہیں۔
جرمنی کی وزارت داخلہ کے مطابق ملک کے بعض بائیں بازو کے انتہا پسند حلقوں اور بیرون ملک انتہا پسند تحریکوں سے منسلک گروہوں نے بھی مظاہروں کی حمایت میں لوگوں کو متحرک کرنے کی کوشش کی۔
ریاست ہیسے کے وزیر داخلہ رومن پوزیک نے خدشہ ظاہر کیا کہ فرانس میں ہونے والے مظاہروں کے دوران لوٹ مار، آتش زنی اور پولیس پر حملوں جیسے واقعات جرمنی میں بھی دہرائے جا سکتے ہیں۔ فرانس کو اس حوالے سے مثال نہیں بننا چاہیے۔
رائٹرز کے مطابق یورپ میں رواں سال جنریشن زی کے نوجوانوں کی قیادت میں احتجاجی تحریکوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سربیا میں طلبہ کی احتجاجی سرگرمیوں نے سیاسی تبدیلی میں کردار ادا کیا، جبکہ فرانس میں نوجوانوں کے احتجاج کے دوران بھی ہنگامہ آرائی اور لوٹ مار کے واقعات پیش آئے۔ جرمنی میں بھی ان مظاہروں کا بنیادی محور نوجوان نسل پر بڑھتا معاشی دباؤ اور تعلیم و صحت کے شعبوں میں بہتری کے مطالبات ہیں۔



