چین کی ایک شیشہ ساز کمپنی نے فرانس میں اکتوبر کے دوران ہونے والے ہنگاموں اور لوٹ مار کی ویڈیو کو اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لیے استعمال کرکے سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کرلی۔
ویڈیو میں دکان کے شیشے کو توڑنے کی کوشش کی گئی تاہم شیشے پر متعدد دراڑیں پڑنے کے باوجود وہ ٹوٹ کر نہ گرا اور نہ ہی اس میں شگاف پڑنے سے راستہ بنا، جس کے بعد کمپنی کی مارکیٹنگ کا یہ انداز صارفین میں موضوعِ بحث بن گیا۔
خیال رہے کہ ستمبرکے وسط میں فرانس طلبہ کے احتجاج کا آغاز اسکولوں میں اساتذہ کی کمی اور عمارتوں کی خراب صورتحال کے خلاف ہوا تھا، جو بعدازاں مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اورعدم مساوات کے خلاف ملک گیر پرتشدد مظاہروں اورلوٹ مارمیں تبدیل ہوگیا، 19 اکتوبرکو پرتشدد واقعات اور لوٹ مار روکنے کے لیے پیرس سمیت مختلف شہروں میں کرفیو نافذ کیے گئے جبکہ ڈھائی ہزار افراد گرفتار ہوئے تھے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے ڈبلیو آئی او این (WION) کے مطابق چین کے صوبے ہینان سے تعلق رکھنے والی کمپنی ہینگ شِن فینگ اسپیشل گلاس نے سوشل میڈیا پریہ ویڈیو شیئر کی، جس میں فرانس میں ہنگاموں کے دوران دکان میں داخل ہونے اور شیشہ توڑنے کی کوشش کے مناظر دکھائے گئے تھے۔
🚨🇨🇳 A Chinese glass company just turned the RIOTS in France into FREE advertising!
Hengxinfeng filmed NOTHING, just posted a video of its unbreakable windows on social media, and went VIRAL.
EPIC TROLLING! https://t.co/WXWuqfW7uJ
— Global Dissident (@GlobalDiss) October 27, 2026
کمپنی نے اس فوٹیج کو اپنی شیشے کی مضبوطی اور پائیداری اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا، ویڈیو میں شیشے پر واضح دراڑیں دکھائی دیتی ہیں لیکن اس کے باوجود شیشہ اپنی جگہ برقرار رہتا ہے اوراسے توڑ کراندرداخل ہونے کی کوشش کامیاب نہیں ہوتی۔
اس ویڈیو نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کی اورکمپنی کو بغیرکسی اضافی تشہیری مہم کے نمایاں توجہ مل گئی، صارفین نے کمپنی کے مارکیٹنگ کے اندازپردلچسپ تبصرے کیے جبکہ بعض افراد نے دکانوں کی حفاظت اور مضبوط شیشوں کی افادیت پر بھی گفتگو کی۔
رپورٹ کے مطابق فرانس میں اکتوبر کے دوران مہنگائی اورمعیارِ زندگی سے متعلق احتجاج نے کئی مقامات پر پرتشدد صورت اختیار کرلی تھی، 17 اکتوبر کو پیرس سمیت مختلف شہروں میں دکانوں کو نشانہ بنایا گیا اورلوٹ مارکے واقعات پیش آئے۔
فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس دوران تقریباً 3 ہزاردکانوں پر حملے کیے گئے یا انہیں لوٹا گیا جبکہ کاروباری شعبے کو کروڑوں یورو کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا۔
فرانس میں احتجاج کے دوران پولیس کے ردعمل، مہنگائی اور شہریوں کے معاشی مسائل پر بھی بحث جاری رہی۔ حکام نے مزید مظاہروں کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات سخت کیے تھے۔
دوسری جانب فرانسیسی سینیٹ نے 28 اکتوبر کو ایک بل منظور کیا، جس کے تحت احتجاج کے دوران ہونے والے نقصانات کی مالی ذمہ داری مظاہرین پر عائد کی جا سکے گی،بل کے حق میں 229 جبکہ مخالفت میں 105 ووٹ آئے۔
مجوزہ قانون کے تحت نقصان کے ذمہ دار قرار پانے والے افراد کو 10 ہزار یورو تک ادا کرنا پڑ سکتے ہیں تاہم ناقدین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس قانون سے پُرامن احتجاج کرنے والوں کے حقوق بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔
یوں فرانس میں ہنگاموں کے دوران بنائی گئی ایک ویڈیو چینی کمپنی کے لیے تشہیر کا ذریعہ بن گئی تاہم شیشے کی مضبوطی سے متعلق کمپنی کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق رپورٹ میں نہیں کی گئی۔



