فرانسیسی وزیراعظم سیباسٹین لیکورنو نے ملک کے بعض علاقوں میں پرتشدد مظاہروں اور لوٹ مار کے واقعات کے پیش نظر جزوی کرفیو نافذ کرنے کی ہدایت کردی۔
واضح رہے کہ فرانس میں ستمبر کے وسط میں پیرس کے شمالی مضافات میں طلبہ نے اساتذہ کی کمی اوراسکولوں کی خستہ حالی کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا جو بعد ازاں ملک گیر مظاہروں میں تبدیل ہوگیا، مظاہرین مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں، معاشی عدم مساوات اورعوامی خدمات کی خراب صورتحال کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں ان مظاہروں کے دوران بعض علاقوں میں پرتشدد واقعات اورلوٹ مار بھی سامنے آئی۔
خبررساں ادارے رائٹرزکے مطابق فرانسیسی وزیراعظم سیباسٹین لیکورنو نے مقامی حکام کو ہدایت کی ہے کہ امن و امان کی صورتحال پرقابو پانے اورعوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے متاثرہ علاقوں میں جزوی کرفیو نافذ کیا جائے۔
فرانسیسی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ پرتشدد مظاہروں اور لوٹ مار کے واقعات کے تناظر میں مقامی حکام کو صورتحال کے مطابق اقدامات کرنے کا کہا گیا ہے تاکہ تشدد کے واقعات کو روکا جا سکے اورامن وامان برقرار رکھا جا سکے۔
A protester has been beaten by dozens of police officers in Paris, France. https://t.co/8YBBafOXpM
— Globe Eye News (@GlobeEyeNews) October 18, 2026
انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال کے باوجود پیرس سینٹ جرمین (پی ایس جی) اور بارسلونا کے درمیان فٹ بال میچ منسوخ نہیں کیا جائے گا اوریہ مقابلہ طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوگا۔
فرانسیسی وزیراعظم کے مطابق حکومت حالات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور امن و امان کی بحالی کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر حالات کے پیش نظر ہنگامی حالت نافذ کرنا ضروری سمجھا گیا تو حکومت اس اقدام سے گریز نہیں کرے گی۔
فرانسیسی حکومت کی جانب سے یہ ہدایات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ملک کے بعض علاقوں میں پرتشدد مظاہروں اور لوٹ مار کے واقعات کے باعث امن وامان کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
تاہم جزوی کرفیو کے نفاذ سے متعلق مخصوص علاقوں اور اوقات کی تفصیلات فراہم کردہ معلومات میں شامل نہیں ہیں۔



