وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاک چین فرینڈ شپ اسپتال کا افتتاح کر دیا۔
وزیراعظم نے جمعرات کو اسلام آباد میں پاکستان چین فرینڈشپ اسپتال کا افتتاح کردیا اور اعلان کیا کہ حکومت اسپتال کے تمام آپریشنل اخراجات برداشت کرے گی جبکہ ملک بھر سے آنے والے مریضوں کو مفت علاج فراہم کیا جائے گا۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان چین فرینڈشپ اسپتال دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی کی علامت ہے۔ چین نے کووڈ 19 کی وبا کے دوران یہ اسپتال پاکستان کو تحفے میں دیا تھا تاہم وبا کے بعد اسپتال کی بندش انتہائی افسوس ناک اور مجرمانہ غفلت کے مترادف تھی۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ اسپتال کا نام مستقل طور پر پاکستان چین فرینڈشپ اسپتال ہی برقرار رکھا جائے گا، جو دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات اور چینی قیادت کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہریوں کو معیاری طبی سہولتیں فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور دکھی انسانیت کی خدمت سے بڑھ کر کوئی قومی خدمت نہیں۔
"When the bids were opened, I considered the price too high. I negotiated the annual budget with them and secured a reasonable discount from their running expenditure and CapEx.
The hospital was named Margalla Hospital. I said it has to be the Pakistan-China Friendship Hospital so I changed the nameplate and it will forever remain the Pakistan-China Friendship Hospital. I am confident that Dr. Bari, Mia Ahsan and their team will provide the best possible medical services, completely free of cost, to patients from Islamabad and the entire region."
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif addresses the inauguration ceremony of the Pak-China Friendship Hospital in Islamabad
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) October 29, 2026
انہوں نے اسپتال کی بحالی میں انڈس اسپتال کی انتظامیہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے سالانہ اخراجات اور سرمایہ کاری کی ضروریات میں مناسب رعایتیں فراہم کی ہیں۔
اسپتال کا انتظام کیسے چلایا جائے گا؟
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ پاکستان چین فرینڈشپ اسپتال کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلایا جائے گا۔ اس انتظام کے تحت حکومت اسپتال کے تمام آپریشنل اخراجات برداشت کرے گی جبکہ انڈس اسپتال کی انتظامیہ اسپتال کے انتظامی اور طبی امور چلانے میں کردار ادا کرے گی۔
وزیر صحت کے مطابق مارچ 2025 میں اسلام آباد کے سرکاری اسپتالوں میں بستروں کی تعداد 3 ہزار 275 تھی جبکہ دارالحکومت کی بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث موجودہ طبی سہولتوں پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہیلتھ کارڈ پروگرام کی بحالی کے بعد 15 نجی اسپتالوں کو اس نظام میں شامل کیا گیا ہے، جس سے شہریوں کو علاج کی سہولتوں تک رسائی میں وسعت ملی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے مزید اعلان کیا کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں 200 بستروں پر مشتمل کینسر اسپتال آئندہ سال فعال ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے صحت کے شعبے میں پیش رفت پر وزیراعظم کی رہنمائی کو سراہا اور پاکستانی عوام کے لیے اسپتال کا تحفہ دینے پر چینی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔
چین کے سفیر کا اظہارِ مسرت
پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے اسپتال کی بحالی میں وزیراعظم شہباز شریف کی ذاتی دلچسپی اور سرپرستی کو سراہتے ہوئے اسے پاک چین دوستی کی اہم علامت قرار دیا۔
چینی سفیر نے اسپتال کا نام برقرار رکھنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور اس کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینے والے افراد کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
پاکستان چین فرینڈشپ اسپتال کا افتتاح کووڈ 19 کے دوران چین کی جانب سے تحفے میں دی گئی طبی سہولت کو دوبارہ فعال بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ حکومت نے اسپتال کے اخراجات برداشت کرنے اور مریضوں کو مفت طبی سہولتیں فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔


