سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات اور خطے میں جاری کشیدگی کے پیش نظر امریکی مشن نے ملک گیر سکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے امریکی شہریوں کو ممکنہ حملوں، فضائی حدود کی بندش اور پروازوں میں تعطل سے خبردار کر دیا۔
یہ الرٹ ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی صورت حال کشیدہ ہے، جبکہ سعودی عرب پر یمن کے حوثی باغیوں کے حملوں میں دوبارہ شدت آنے سے علاقائی تنازع مزید پھیلنے اور فضائی سلامتی کو لاحق خطرات بڑھنے کے خدشات بھی جنم لے رہے ہیں۔
گلف نیوز کے مطابق امریکی مشن کی جانب سے جاری کردہ ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے سکیورٹی خطرات کے پیش نظر 23 اکتوبر سے سعودی عرب میں تعینات غیر ہنگامی امریکی سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔
الرٹ میں سعودی عرب کے بڑے ہوائی اڈوں کی صورت حال سے متعلق تازہ معلومات بھی فراہم کی گئی ہیں۔
Security Alert: U.S. Mission Saudi Arabia (October 30, 2026)
Effective October 23, 2026, the Department of State ordered non-emergency U.S. government employees and U.S. government employee family members to leave Saudi Arabia due to safety risks.
Iranian-supported Houthis have engaged in hostilities against Saudi Arabia, including attacks on civilian airports and other critical infrastructure resulting in civilian casualties and severe travel disruptions. The hostilities have the potential to escalate rapidly beyond that immediate area.
U.S. government employees working in Saudi Arabia require special authorization from Chief of Mission to use any airport in Saudi Arabia following recent missile and UAV attacks on airports in the Kingdom.
U.S. citizens should be aware of potential attacks on airports, airspace closures, flight cancellations, and travel disruptions. Please take extreme caution if you choose to use airports in Saudi Arabia. We recommend checking your flight departure status directly with the airline and with the airport.Read more: https://t.co/cXZCGSfomE
— U.S. Embassy Riyadh (@USAinKSA) October 30, 2026
امریکی مشن کے مطابق ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو 23 اکتوبر سے جزوی طور پر دوبارہ کھول دیا گیا ہے، جہاں اندرون ملک پروازوں اور سعودی قومی فضائی کمپنیوں کی بعض بین الاقوامی پروازوں کو آپریشن کی اجازت دی گئی ہے۔
ریاض سے معمول کے مطابق چلنے والی بعض پروازیں قصیم کے شہزادہ نایف بن عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بھی چلائی جا رہی ہیں۔ جدہ کے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی فضائی آپریشن جاری ہے، تاہم بعض پروازوں میں تاخیر اور منسوخی کی اطلاعات ہیں۔
امریکی مشن نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سفر کے لیے روانہ ہونے سے پہلے متعلقہ ایئرلائن اور ہوائی اڈے سے پرواز کی صورت حال کی تصدیق کریں۔
الرٹ کے مطابق سعودی عرب میں تعینات امریکی سرکاری ملازمین کو مملکت کے کسی بھی ہوائی اڈے کے استعمال کے لیے مشن کے سربراہ کی خصوصی اجازت درکار ہو گی۔ امریکی سرکاری ملازمین کو یمن کی سرحد سے 20 میل کے فاصلے تک سفر کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ جازان، عسیر اور نجران صوبوں سمیت قطیف، ینبع اور طائف کے سفر کے لیے خصوصی اجازت لینا ضروری قرار دیا گیا ہے۔
امریکی مشن نے اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ سعودی ہوائی اڈوں پر انتہائی احتیاط برتیں اور ممکنہ حملوں، فضائی حدود بند ہونے اور پروازوں کی منسوخی کے خطرات کے پیش نظر چوکس رہیں۔
امریکی مشن کے مطابق سعودی عرب کی تمام زمینی سرحدی گزرگاہیں فعال ہیں، جن میں سعودی عرب اور بحرین کو ملانے والا شاہ فہد کازوے بھی شامل ہے۔ ریاض، جدہ اور ظہران کے اطراف شاہراہوں اور سڑکوں پر بھی آمدورفت جاری ہے۔
مشن نے مسافروں کو فضائی سفر کے متبادل کے طور پر ذاتی گاڑیوں، ٹرینوں اور بسوں کے استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
اس سلسلے میں سعودی عرب ریلوے، ایس اے ٹی ٹرانسپورٹیشن اور ساپٹکو کی خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سفر سے قبل متعلقہ اداروں سے نظام الاوقات اور دستیابی کی تصدیق کریں۔
امریکی مشن نے اپنے شہریوں کو سعودی وزارت داخلہ کی ہدایات سے بھی آگاہ کیا ہے، جن کے تحت میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں روکنے کے واقعات یا ان کے ملبے اور متاثرہ مقامات کی فلم بندی کرنے، تصاویر یا ویڈیوز شائع کرنے اور اس حوالے سے معلومات شیئر کرنے سے منع کیا گیا ہے۔


