سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ کے علاقے میں حوثیوں کی جانب سے ڈرون حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔
حالیہ دنوں میں سعودی عرب پر حوثی جنگجووں کے حملوں میں تیزی آئی ہے، گزشتہ ہفتے دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئر پورٹ اور شیبہ آئل فیلڈ کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 4 افراد جبکہ ریاض ائیر پورٹ پر رواں ماہ 20 حملوں کے نتیجے میں 17 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔
سعودی قیادت میں اتحادی فورسز نے آج جاری بیان میں تصدیق کی کہ حوثیوں کی جانب سے مکہ کے علاقے میں بھیجا گیا ڈرون روک کر تباہ کردیا گیا۔
التحالف:
اعتراض وتدمير طائرة مسيّرة بمنطقة مكة المكرمة أطلقتها الميليشيا الحوثية الإرهابية. https://t.co/EFyNPlDmIG
— المتحدث الرسمي باسم قوات التحالف (@CJFCSpox) October 30, 2026
یہ واقعہ سعودی عرب پر حوثیوں کے سرحد پار حملوں کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے، جن میں ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے فوجی تنصیبات، ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
حوثی باغیوں کی جانب سے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔حوثی گروپ ماضی میں مکہ اور مدینہ کو نشانہ بنانے کے الزامات کی بارہا تردید کرچکا ہے۔
دوسری جانب مملکت کے مغربی علاقے میں فضائی دفاعی نظام نے بیلسٹک میزائلوں کو کامیابی سے فضا میں ناکارہ بنا دیا ، میزائلوں کا ملبہ گرنے سے ایک شخص زخمی، مکان اور گاڑی کو نقصان پہنچا۔
التحالف:
اعتراض وتدمير صاروخ مجنح (كروز) أطلقته الميليشيا الحوثية الإرهابية باتجاه المنطقة الغربية. https://t.co/PPxbJZmXbU
— المتحدث الرسمي باسم قوات التحالف (@CJFCSpox) October 29, 2026
یاد رہے 3 روز قبل ہی امریکی محکمہ خارجہ نے سکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر سعودی عرب میں تعینات امریکی حکومت کے غیر ہنگامی عملے اور سرکاری ملازمین کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔
امریکی شہریوں کو خبردار کیا گیا کہ سعودی عرب میں ہوائی اڈوں پر ممکنہ حملوں، فضائی حدود بند ہونے، پروازوں کی منسوخی اور سفری نظام میں خلل کے خدشات موجود ہیں۔ روانگی سے قبل اپنی پرواز کی تصدیق متعلقہ ایئرلائن اور ہوائی اڈے سے براہِ راست کریں۔
Security Alert: U.S. Mission Saudi Arabia (October 27, 2026)
Effective October 23, 2026, the Department of State ordered non-emergency U.S. government employees and U.S. government employee family members to leave Saudi Arabia due to safety risks.
Iranian-supported Houthis have engaged in hostilities against Saudi Arabia, including attacks on civilian airports and other critical infrastructure resulting in civilian casualties and severe travel disruptions. The hostilities have the potential to escalate rapidly beyond that immediate area.
U.S. government employees working in Saudi Arabia require special authorization from Chief of Mission to use any airport in Saudi Arabia following recent missile and UAV attacks on airports in the Kingdom.– King Khalid International Airport (RUH) in Riyadh announced a partial reopening as of October 23 for domestic flights and some international flights operated by national carriers. A limited number of flights normally based at RUH are operating out of Qassim-based Prince Naif bin Abdulaziz International Airport (ELQ).
– Operations at King Abdulaziz International Airport in Jeddah (JED) are operational with some delays and cancellations.
– Operations at King Fahd International Airport in Dammam (DMM) are operational with some delays and cancellations.
U.S. citizens should be aware of potential attacks on airports, airspace closures, flight cancellations, and travel disruptions. Please take extreme caution if you choose to use airports in Saudi Arabia. We recommend checking your flight departure status directly with the airline and with the airport.
Read more: https://t.co/pzUJFbwnh1
— U.S. Embassy Riyadh (@USAinKSA) October 27, 2026



