وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج چھ ماہ کے بعد بھی جاری رہ سکتا ہے، تاہم حکومت کی کوشش ہے کہ چھ ماہ سے پہلے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کی جائے۔
وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا۔ آئین کے مطابق گورنر راج کی زیادہ سے زیادہ مدت 6 ماہ ہوتی ہے۔ تاہم ناگزیر وجوہات کی بنیاد پر اس کی مدت میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
ہم نیوز کے پروگرام ’فیصلہ آپ کا‘ میں گفتگو کرتے ہوئے مشیر وزیراعظم رانا ثنا اللہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت دہشت گردی کے خلاف آپریشنز میں تعاون کرنے کے بجائے رکاوٹ بن رہی تھی، اور اسی وجہ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مشکلات پیش آ رہی تھیں۔ جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے مخالف تھے اور خود کہتے تھے کہ وہ آپریشن نہیں ہونے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں سے مبینہ گٹھ جوڑ کی بنیاد پر صوبائی حکومت کو معزول کیا گیا۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی ہو رہی ہے، جبکہ بھارت بھی ”آپریشن سندور فیز ٹو“ پاکستان کے خلاف چلایا جا رہا ہے۔ اور معرکہ حق میں ناکامی کے بعد بھارت نے افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی مسلط کی۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں روزانہ کی بنیاد پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ہو رہے ہیں اور ان میں مزید تیزی لائی جائے گی۔ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ سکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔
سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں، رانا ثنا اللہ
سہیل آفریدی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے مشیر وزیراعظم نے کہا کہ گورنر خیبرپختونخوا نے بتایا ہے کہ سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں اور انہیں ان کی درخواست پر تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ تاہم اگر سہیل آفریدی کسی مقدمے میں گرفتار ہوتے ہیں تو ان کا ٹرائل ہو گا۔
رانا ثنا اللہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ سہیل آفریدی کو اپنی جماعت کے ان 20 لاکھ افراد سے خطرہ ہے جنہیں وہ اسلام آباد لانا چاہتے تھے۔ چھ ماہ بعد صوبائی اسمبلی بحال ہو جائے گی، تاہم گورنر راج 6 ماہ بعد بھی جاری رہ سکتا ہے۔
یاد رہے کہ گورنر راج لگتے ہی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ تاہم حکومتی مؤقف تھا کہ وہ حفاظتی تحویل میں ہیں۔ لیکن تاحال انہیں سامنے نہیں لایا گیا۔
’پی ٹی آئی سے مذاکرات پر بھی بات چیت‘
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس وقت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اجلاسوں میں صرف تقاریر ہو رہی ہیں۔ اگر تحریک انصاف کسی فیصلے پر پہنچتی ہے تو اس کے بعد بات چیت ممکن ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت کے طور پر اپنا کردار ادا کرے تو حکومت کی قیادت اس پر غور کر سکتی ہے۔ اور وزیراعظم کی رہنمائی میں دوبارہ مذاکرات کے حوالے سے فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
’28ویں آئینی ترمیم کا فی الحال امکان نہیں’
مشیر وزیراعظم نے کہا کہ 28ویں آئینی ترمیم کا فی الحال کوئی امکان نہیں اور اس بارے میں کسی نے بات تک نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف متعدد بار میثاق جمہوریت کی بات کر چکے ہیں اور انہوں نے اپوزیشن کو میثاق استحکام پاکستان کی دعوت بھی دی ہے۔ جبکہ مولانا فضل الرحمان نے میثاق جمہوریت سے متعلق مثبت بات کی ہے۔
رانا ثنا اللہ نے زور دیا کہ میثاق جمہوریت یا میثاق استحکام پاکستان کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر بات چیت کرنی چاہیے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر 2026 کو خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی۔ جس کے بعد وزیراعلیٰ سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا۔
جس کے بعد صوبے کے انتظامی معاملات گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کے پاس آ گئے۔ جس میں معاونت کے لیے انہوں نے ایک مشاورتی کونسل بھی تشکیل دی۔



