پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی 70 سالہ بہن نورین نیازی کی طبیعت بگڑنے پر انہیں کوٹ لکھپت جیل سے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) منتقل کردیا گیا ہے۔
خاندانی ذرائع کے مطابق نورین نیازی کو دل میں تکلیف کی شکایت کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ان کے اہلِ خانہ کو منتقلی کے بارے میں اطلاع نہیں دی گئی۔ وکیل رانا مدثر عمر نے بھی ان کی اسپتال منتقلی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی طبی معائنے اور ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔
نورین نیازی اس وقت پنجاب حکومت کے احکامات کے تحت حراست میں ہیں۔ ان کی طبیعت خراب ہونے کا واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب عمران خان کی تینوں بہنوں کی نظر بندی میں مزید 30 روز کی توسیع کا معاملہ لاہور ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت رہا ہے۔
نورین نیازی کی گرفتاری کا پس منظر
نورین نیازی، علیمہ خان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو ستمبر 2026 میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی رہائی کے مطالبے اور اسلام آباد کی جانب مجوزہ احتجاجی مارچ سے قبل حراست میں لیا گیا تھا، یہ کارروائی ایسے وقت ہوئی جب پی ٹی آئی نے عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی کے لیے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا تھا۔
20 ستمبر کو عمران خان کی بہن علیمہ خان کو لاہور میں حراست میں لیا گیا۔ حکام نے پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس 1960 کے سیکشن 3 کے تحت 30 روزہ نظر بندی کا حکم جاری کیا۔
21 ستمبر کو نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو بھی اسی قانون کے تحت حراست میں لے کر کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا۔ حکام نے نظر بندی کے احکامات کی بنیاد امن و امان کے خدشات کو قرار دیا۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے ان گرفتاریوں کی مخالفت کرتے ہوئے انہیں سیاسی مطالبات دبانے کی کوشش قرار دیا، جبکہ حکام کا مؤقف تھا کہ احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اقدامات ضروری تھے۔
نظر بندی کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع
عمران خان کی بہنوں نے اپنی نظر بندی کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ ان کے وکیل رانا مدثر عمر نے مؤقف اختیار کیا کہ خواتین کے خلاف کسی باقاعدہ فوجداری مقدمے میں مطلوب ہونے کے بجائے انہیں احتیاطی نظر بندی کے تحت حراست میں رکھا گیا، جو درخواست گزاروں کے مطابق غیرقانونی تھا۔
نورین نیازی صاحبہ کی جیل میں طبعیت خراب ہونے پر پنجاب کارڈیالوجی منتقل کیا گیا ہے۔ ان کی صحت کیلئے دعاؤں کی درخواست ہے۔ 70 سالہ نورین نیازی غیر قانونی نظر بند ہیں اور ان کی ہسپتال منتقلی پر کسی خاندان کے شخص کو اطلاع نہیں دی گئی۔ https://t.co/IRXs29TcWV
— Rana Mudassar Umer (@MudassarUmer4) October 28, 2026
13 اکتوبر کو لاہور ہائی کورٹ نے ڈاکٹر عظمیٰ خان کو دل کی ادویات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ سماعت کے دوران نورین نیازی کو بھی ادویات، کپڑے، عینک اور اہلِ خانہ و وکلا سے ملاقات کی سہولت دینے کی درخواست کی گئی۔
22 اکتوبر کو عدالت نے پنجاب کے ہوم سیکرٹری اور کوٹ لکھپت جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو طلب کیا تاکہ نظر بندی جاری رکھنے کی وجوہات واضح کی جا سکیں۔
نظر بندی میں مزید 30 روز کی توسیع
26 اکتوبر کو پنجاب حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کو بتایا کہ علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی میں مزید 30 روز کی توسیع منظور کرلی گئی ہے۔ سرکاری وکیل کے مطابق یہ توسیع لاہور کے ڈپٹی کمشنر کی سفارش پر 7 اکتوبر کو منظور کی گئی تھی۔
ڈان نیوز کے مطابق عدالت نے حکومتی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد رہائی سے متعلق درخواست نمٹا دی۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ نظر بندی کے احکامات جاری کرنے والے ڈپٹی کمشنر کو درخواست میں فریق نہیں بنایا گیا تھا۔
نظر بندی میں توسیع کے دو روز بعد، 28 اکتوبر کو نورین نیازی کی دل میں تکلیف کے باعث پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقلی کی اطلاع سامنے آئی۔ ان کے وکیل رانا مدثر عمر کے مطابق ابتدائی طبی ٹیسٹ کیے جا رہے تھے، جبکہ خاندانی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ منتقلی کے بارے میں اہلِ خانہ کو آگاہ نہیں کیا گیا۔



