مشیر وزیر اعظم برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے سینیٹ میں کہا ہے کہ نورین نیازی کے تمام طبی ٹیسٹ نارمل آئے ہیں۔
رانا ثناء اللہ نے سینیٹ کو بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن نورین نیازی کے تمام طبی ٹیسٹ نارمل آئے ہیں اور دستیاب معلومات کے مطابق ان کی طبیعت بہتر ہے۔
رانا ثناء اللہ نے جمعرات کو سینیٹ میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر بیرسٹر علی ظفر کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ نورین نیازی کو طبیعت خراب ہونے پر بروقت طبی سہولتیں فراہم کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ اہل خانہ کو ان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے کی اطلاعات کے حوالے سے تفصیلات حاصل کی جائیں گی اور الزامات درست ثابت ہونے پر معاملے کو دیکھا جائے گا۔
نورین نیازی کو بدھ کے روز لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) منتقل کیا گیا تھا۔ ان کے وکیل رانا مدثر عمر کے مطابق جیل میں بلڈ پریشر بڑھنے پر جیل ڈاکٹروں کی سفارش پر انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔
نورین نیازی صاحبہ کی جیل میں طبعیت خراب ہونے پر پنجاب کارڈیالوجی منتقل کیا گیا ہے۔ ان کی صحت کیلئے دعاؤں کی درخواست ہے۔ 70 سالہ نورین نیازی غیر قانونی نظر بند ہیں اور ان کی ہسپتال منتقلی پر کسی خاندان کے شخص کو اطلاع نہیں دی گئی۔ https://t.co/IRXs29TcWV
— Rana Mudassar Umer (@MudassarUmer4) October 28, 2026
وکیل نے الزام عائد کیا کہ نورین نیازی کی اسپتال منتقلی کے بارے میں نہ تو ان کے اہل خانہ کو مطلع کیا گیا اور نہ ہی قانونی مشیر کو آگاہ کیا گیا۔ پی ٹی آئی نے بھی ان کی صحت اور اہل خانہ کو اطلاع نہ دیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
نورین نیازی سمیت تین بہنوں کی نظر بندی
رپورٹس کے مطابق نورین نیازی، علیمہ خان اور عظمیٰ خان ستمبر سے پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کے تحت نظر بند ہیں۔ اکتوبر میں لاہور ہائیکورٹ میں پیش کی گئی رپورٹس کے مطابق ان کی نظر بندی میں مزید 30 روز کی توسیع کی گئی تھی۔ ان کی نظر بندی سے متعلق معاملہ لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے۔
جیل کے ایک سینئر عہدیدار نے اس سے قبل بتایا تھا کہ زیر حراست بہنوں کو ادویات اور روزمرہ استعمال کی اشیا فراہم کی جا رہی ہیں، تاہم اہل خانہ اور وکلا کی ملاقات متعلقہ حکام کی منظوری سے مشروط ہے۔
نورین نیازی کی اسپتال منتقلی کے بعد ان کی طبی سہولتوں، اہل خانہ سے ملاقات اور قانونی مشیروں تک رسائی کے معاملے پر ایک بار پھر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
عمران خان سے ملاقاتوں پر رانا ثناء اللہ کا مؤقف
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عمران خان کی صحت اور ان سے ملاقاتوں کے معاملے میں پی ٹی آئی کو عدالتوں سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ سابق وزیر اعظم عدالتی تحویل میں ہیں۔
انہوں نے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی قومی اسمبلی میں حالیہ تقریر پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ان کے بار بار دیے جانے والے بیانات سے عوام میں بے چینی پیدا ہوئی ہے۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ریاست ماں کی مانند ہوتی ہے اور اس کے بارے میں توہین آمیز زبان قابل مذمت ہے۔ انہوں نے دورانِ ڈیوٹی جانیں قربان کرنے والوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ریاست مخالف بیانات قابل قبول نہیں اور شہدا کے حوالے سے گفتگو میں ذمہ دارانہ زبان استعمال کی جانی چاہیے۔



