بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو پولیس نے لاہور سے حراست میں لے لیا۔
خاندانی ذرائع کے مطابق علیمہ خان کو گھر کے باہر سے حراست میں لے کر کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا جبکہ ان کی گاڑی مزنگ تھانے میں کھڑی ہے۔
ذرائع کے مطابق علیمہ خان کو تھری ایم پی او کی دفعہ 16 کے تحت امن و امان میں خلل کے خدشے کے پیش نظر حراست میں لیا گیا۔
خاندان نے علیمہ خان کی حراست کی تصدیق کر دی، تاہم لاہور پولیس کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
تحریک انصاف کے ذرائع کے مطابق علیمہ خان اپر مال میں واقع اپنے گھر سے جم جانے کے لیے نکلی تھیں کہ انہیں لٹن روڈ پولیس نے حراست میں لے لیا۔
علیمہ خان کی گرفتاری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی تیاری کر رہی ہے۔ پارٹی کے مطابق احتجاج کا مقصد عمران خان کی رہائی ہے۔
بعد ازاں پی ٹی آئی رہنما بریگیڈیئر (ر) مشتاق نے کہا کہ حکومت ’’عوامی انقلاب‘‘ سے خوفزدہ ہے، علیمہ خان کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں الزام عائد کیا کہ ’’غیر قانونی حکومت اور غیر قانونی اقتدار پر قابض اس کے سہولت کاروں‘‘ نے علیمہ خان کو ان کے گھر کے باہر سے اغوا کیا ہے۔
اس ناجائز حکومت اور انکے ناجائز اقتدار پر قابض ہینڈلرز نے علیمہ خانم کو انکے گھر کی باہر سے اغواء کر لیا۔
— PTI (@PTIofficial) September 20, 2026
پی ٹی آئی سینٹرل پنجاب کے ترجمان نے علیمہ خان کی حراست کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بڑی تعداد میں پی ٹی آئی کارکنوں کو بھی گرفتار کیا جا رہا ہے۔
ادھر علیمہ خان کے وکیل رانا مدثر عمر کا کہنا ہے کہ پولیس نے غیر قانونی طور پر حراست میں لیا، علیمہ خان کی لاہور کے تمام مقدمات میں ضمانتیں ہیں، علیمہ خان کو کس مقام یا تھانے میں رکھا ہے، ہمیں کوئی علم نہیں۔
علیمہ خان صاحبہ صبح ڈرائیور کے ہمراہ گھر سے نکلیں تو پولیس نے غیر قانونی طور پر ان کو گرفتار کر کے نا معلوم مقام پر منتقل کیا۔ علیمہ خان صاحبہ کی لاہور کے تمام مقدمات میں ضمانتیں ہیں۔ ان کو کس مقدمہ، مقام یا تھانہ میں رکھا ہے اس بابت ابھی کچھ علم میں نہ ہے۔ @PTIofficial https://t.co/EYUpW3weVN
— Rana Mudassar Umer (@MudassarUmer4) September 20, 2026
واضح رہے کہ علیمہ خان کو احتجاج اور دیگر واقعات سے متعلق متعدد مقدمات کا سامنا ہے۔ 5 ستمبر کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق مقدمات میں علیمہ خان، ان کی بہن عظمیٰ خان اور پی ٹی آئی کے کئی دیگر رہنماؤں کی عبوری ضمانت میں 6 اکتوبر تک توسیع کر دی تھی۔
خیال رہے عمران خان کی رہائی اور ان کے بیانیے کو زندہ رکھنے میں علیمہ خان کا کردار انتہائی نمایاں اور فعال رہا ہے۔علیمہ خان نے عمران خان کی قید کے دوران عدالتی پیشیوں اور میڈیا کے سامنے ان کا مقدمہ بھرپور انداز میں لڑا اور ہر فورم پر ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔



