بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کو پولیس نے لاہور سے حراست میں لے لیا۔
خاندانی ذرائع کے مطابق علیمہ خان کو گھر کے باہر سے حراست میں لے کر کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا جبکہ ان کی گاڑی مزنگ تھانے میں کھڑی ہے۔
ذرائع کے مطابق علیمہ خان کو تھری ایم پی او کی دفعہ 16 کے تحت امن و امان میں خلل کے خدشے کے پیش نظر حراست میں لیا گیا۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ مجھے نورین نیازی نے علیمہ خان کی گرفتاری کے بارے میں فون پر بتایا- ہم نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ ہمارا مارچ پُرامن اور سیاسی ہوگا۔ جبکہ ہمارا مقصد اپنے آئینی و سیاسی مطالبات کے لیے پُرامن جدوجہد کرنا ہے، اور ہم کسی قسم کا تصادم یا تشدد نہیں چاہتے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے میں علیمہ خانم کو گرفتار کرنا یا ایم پی او کے تحت نظر بند رکھنا تشدد اور کشیدگی کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔ اسکی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اور حالات کو خراب کرنے کا یہ پہلا قدم ہے اور یہ تمام اقدامات فی الفور بند کیے جائیں۔ علیمہ خان کی فی الفور رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں جبکہ ایسے اقدامات کے خلاف پارٹی اپنا لائحہ عمل جلد دیگی۔
مجھے نورین نیازی صاحبہ نے علیمہ خان صاحبہ کی گرفتاری کے بارے میں فون پر بتایا- ہم نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ ہمارا مارچ پُرامن اور سیاسی ہوگا۔ ہمارا مقصد اپنے آئینی و سیاسی مطالبات کے لیے پُرامن جدوجہد کرنا ہے، کسی قسم کا تصادم یا تشدد نہیں چاہتے – ایسے میں علیمہ خانم صاحبہ کو… pic.twitter.com/GqPjM2jbAp
— Barrister Gohar Khan (@BarristerGohar) September 20, 2026
ڈپٹی کمشنر لاہور نے تھری ایم پی او کے تحت علیمہ خان اور پی ٹی آئی رہنما محمد امیر کی 30 روزہ نظر بندی کے احکامات جاری کر دیئے۔
ڈی سی کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی سفارش پر نظر بندی کے احکامات جاری کئے گئے، پولیس رپورٹس کے مطابق دونوں افراد سے امن و امان میں خلل کا خدشہ ہے دونوں افراد کو 30 روز کیلئے کوٹ لکھپت جیل میں رکھا جائے گا۔

تحریک انصاف کے ذرائع کے مطابق علیمہ خان اپر مال میں واقع اپنے گھر سے جم جانے کے لیے نکلی تھیں کہ انہیں لٹن روڈ پولیس نے حراست میں لے لیا۔
علیمہ خان کی گرفتاری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی تیاری کر رہی ہے۔ پارٹی کے مطابق احتجاج کا مقصد عمران خان کی رہائی ہے۔
بعد ازاں پی ٹی آئی رہنما بریگیڈیئر (ر) مشتاق نے کہا کہ حکومت “عوامی انقلاب” سے خوفزدہ ہے، علیمہ خان کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں الزام عائد کیا کہ “غیر قانونی حکومت اور غیر قانونی اقتدار پر قابض اس کے سہولت کاروں” نے علیمہ خان کو ان کے گھر کے باہر سے اغوا کیا ہے۔
اس ناجائز حکومت اور انکے ناجائز اقتدار پر قابض ہینڈلرز نے علیمہ خانم کو انکے گھر کی باہر سے اغواء کر لیا۔
— PTI (@PTIofficial) September 20, 2026
پی ٹی آئی سینٹرل پنجاب کے ترجمان نے علیمہ خان کی حراست کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بڑی تعداد میں پی ٹی آئی کارکنوں کو بھی گرفتار کیا جا رہا ہے۔
ادھر علیمہ خان کے وکیل رانا مدثر عمر کا کہنا ہے کہ پولیس نے غیر قانونی طور پر حراست میں لیا، علیمہ خان کی لاہور کے تمام مقدمات میں ضمانتیں ہیں، علیمہ خان کو کس مقام یا تھانے میں رکھا ہے، ہمیں کوئی علم نہیں۔
علیمہ خان صاحبہ صبح ڈرائیور کے ہمراہ گھر سے نکلیں تو پولیس نے غیر قانونی طور پر ان کو گرفتار کر کے نا معلوم مقام پر منتقل کیا۔ علیمہ خان صاحبہ کی لاہور کے تمام مقدمات میں ضمانتیں ہیں۔ ان کو کس مقدمہ، مقام یا تھانہ میں رکھا ہے اس بابت ابھی کچھ علم میں نہ ہے۔ @PTIofficial https://t.co/EYUpW3weVN
— Rana Mudassar Umer (@MudassarUmer4) September 20, 2026
واضح رہے کہ علیمہ خان کو احتجاج اور دیگر واقعات سے متعلق متعدد مقدمات کا سامنا ہے۔ 5 ستمبر کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق مقدمات میں علیمہ خان، ان کی بہن عظمیٰ خان اور پی ٹی آئی کے کئی دیگر رہنماؤں کی عبوری ضمانت میں 6 اکتوبر تک توسیع کر دی تھی۔
خیال رہے عمران خان کی رہائی اور ان کے بیانیے کو زندہ رکھنے میں علیمہ خان کا کردار انتہائی نمایاں اور فعال رہا ہے۔علیمہ خان نے عمران خان کی قید کے دوران عدالتی پیشیوں اور میڈیا کے سامنے ان کا مقدمہ بھرپور انداز میں لڑا اور ہر فورم پر ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔



