سعودی اتحادی فوج کے مطابق اکتوبر کے دوران ریاض ایئرپورٹ پر حوثیوں کے 20 حملوں کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک ہوئے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اتحادی فوج کے ترجمان ترکی المالکی نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ حوثیوں نے سعودی عرب کے متعدد ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور بندرگاہوں کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
ترجمان نے ان حملوں کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے حوثی گروپ پر سعودی عرب کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا۔
سعودی کابینہ کا اجلاس، حوثیوں کو سخت انتباہ
سعودی عرب کی کابینہ نے 13 اکتوبر 2026 کو ولی عہد محمد بن سلمان کی زیرِ صدارت ریاض میں ہونے والے اجلاس میں حوثی گروپ کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، زائرین اور اہم شہری و اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے نتائج کی ذمہ داری حوثیوں پر عائد ہوگی۔
کابینہ نے سعودی مسلح افواج کے دفاعی کردار کو سراہتے ہوئے یمن میں اتحادی فوج کی کارروائیوں کی حمایت بھی کی۔ اجلاس میں بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب میں بحری آمدورفت کی آزادی کے تحفظ پر بھی زور دیا گیا۔ یہ آبی راستے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے اہم ہیں۔
کشیدگی میں اضافے کے اثرات
سعودی کابینہ کا یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملوں کے بعد فضائی آپریشنز متاثر ہوئے اور سعودی آرامکو کی تنصیبات کے قریب بھی حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں، حوثیوں نے سعودی ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں بھی دیں۔
رائٹرز کے مطابق حالیہ صورت حال کے باعث خلیجی خطے کی سلامتی اور بین الاقوامی فضائی سفر کے حوالے سے خدشات بڑھے ہیں، یورپی یونین اور خلیج تعاون کونسل کا ریاض میں 24 اکتوبر کو ہونے والا مشترکہ اجلاس بھی سکیورٹی خدشات کے باعث ملتوی کر دیا گیا ہے۔



