پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے گورنر راج کے نفاذ کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال کے دوران خیبر پختونخوا میں اپنے موجودہ تنظیمی ڈھانچے اور جنید اکبر خان کو صوبائی صدر کے عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
گزشتہ ماہ ستمبر میں اسلام آباد کی جانب مجوزہ مارچ کی تیاریوں کے دوران جنید اکبر نے حکومت کو مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کرنے سے خبردار کیا تھا۔ 20 ستمبر کو پشاور میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما نے کہا تھا، ”ہم اسلام آباد کو سومناتھ بنا دیں گے۔“
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سے جنید اکبر کی موجودگی کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔ پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے صوبائی صدر کو پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا تھا، تاہم سرکاری حکام نے اس بارے میں عوامی سطح پر کوئی تصدیق نہیں کی ہے جبکہ پشاور ہائی کورٹ نے جنید اکبر کی بازیابی کے لیے دائر درخواستوں پر متعلقہ حکام سے جواب طلب کیا ہے۔
بیرسٹر گوہر کی جانب سے ایکس پر جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر جنید اکبر خان کی عدم موجودگی میں سینیٹر نورالحق قادری پارٹی اجلاسوں کی صدارت کریں گے اور پارٹی آئین کے مطابق اپنے فرائض انجام دیں گے۔
واضح رہے کہ تین روز قبل پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ جنید اکبر خان کی غیر موجودگی میں علی اصغر قائم مقام صوبائی سربراہ کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے اندرونی اتفاق پر اسوقت غیر جمہوری فیصلہ سازوں کا حملہ ہے۔ بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے 68 ارکان ایک گروپ کے طور پر عمران خان صاحب اور پارٹی کی پولیٹیکل کمیٹی کی اجازت کے بغیر صوبائی صدر اور آئندہ وزیر اعلی کے امیدوار کا اعلان کرنے والے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اسی گروپ نے آخری دنوں میں وزیر اعلی سہیل آفریدی اور انکی ٹیم سے رابطہ منقطع کر کے سرکاری جبر، ایمرجنسی اور گورنر راج کی راہ ہموار کی۔ کسی سازشی بیانیے پر یقین نہ کیا جائے جب تک تحقیقات مکمل نہ کر لی جائیں۔ جنید اکبر صاحب خیبر پختونخواہ میں پارٹی کے بدستور صدر ہیں۔ انکا تقرر عمران خان صاحب نے خود کیا ہے۔ انکی غیر موجودگی میں صوبے کے جنرل سیکریٹری علی اصغر خان صاحب قائم مقام صدر ہیں۔ سہیل آفریدی قانون اور آئین کی رو سے آج بھی وزیر اعلی ہیں۔ وسوسہ پھیلانے والے سانپوں اور سنپولیوں کو شکست ہو گی۔ اللہ تعالی کی پناہ مانگتا ہوں انکے شر سے۔
— salman akram raja (@salmanAraja) October 21, 2026
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے جنرل سیکرٹری علی اصغر خان صوبے میں پارٹی کے تمام تنظیمی امور کی مجموعی نگرانی کریں گے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کا خیبر پختونخوا میں پارٹی کے تنظیمی امور سے متعلق اہم نوٹیفکیشن جاری۔
خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق جنید اکبر خان بدستور صوبائی صدر رہیں گے۔ ان کی عدم موجودگی میں سینیٹر نورالحق قادری پارٹی اجلاسوں کی صدارت کریں گے اور آئین کے مطابق اپنے فرائض انجام دینگے- جبکہ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے جنرل سیکرٹری علی اصغر خان تمام تنظیمی امور کی مجموعی نگرانی کریں گے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ پارٹی کے موجودہ تنظیمی ڈھانچے میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جائیگی-
— Barrister Gohar Khan (@BarristerGohar) October 24, 2026
جاری کردہ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ پارٹی کے موجودہ تنظیمی ڈھانچے میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جائے گی اور تنظیمی معاملات پہلے سے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق جاری رہیں گے۔
گورنر راج سے خیبر پختونخوا کا سیاسی منظرنامہ تبدیل
خیبر پختونخوا میں سیاسی اور انتظامی صورت حال 11 اکتوبر کو اس وقت تبدیل ہوئی جب صدر مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی کابینہ کی سفارش پر آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت صوبے میں ایمرجنسی اور آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج نافذ کرنے کی منظوری دی۔
وفاقی حکومت نے اس اقدام کی وجہ صوبے میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورت حال اور انسدادِ دہشت گردی کے معاملے پر پی ٹی آئی کی زیرِ قیادت صوبائی حکومت کے ساتھ ناکافی تعاون کو قرار دیا۔
اس فیصلے کے نتیجے میں سہیل آفریدی، ان کی کابینہ اور مشیر اپنے عہدوں سے فارغ ہوگئے جبکہ انتظامی اختیارات خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کو منتقل ہو گئے۔
پی ٹی آئی نے وفاقی حکومت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو عدالت میں چیلنج کیا۔ ان اقدامات سے قبل سہیل آفریدی کا مؤقف تھا کہ انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی میں تبدیلی کے بغیر صرف پولیس کو اضافی وسائل فراہم کرنے سے عسکریت پسندی کا مسئلہ حل نہیں ہو گا۔
بعد ازاں وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل اور دہشت گردی سے متاثرہ 12 اضلاع کے لیے الگ انتظامی ڈھانچہ قائم کیا۔
14 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ نے ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کی جبکہ اگلے روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کے احتجاج کے دوران یہ قرارداد 214 ووٹوں کے مقابلے میں 56 ووٹوں سے منظور کر لی گئی۔
17 اکتوبر کو وفاقی حکومت نے جرگے سے مشاورت کے بعد ان 12 نامزد اضلاع کے لیے ریجنل ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل کے 48 ارکان مقرر کیے۔


