پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق رکن قومی اسمبلی اسد عمر نے پارٹی قیادت کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے معاملے پر تین مختلف آپشنز پر غور کرنے کا مشورہ دے دیا۔
خیبر پختونخوا میں وفاقی حکومت کی جانب سے 11 اکتوبر 2026 کو آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور 6 ماہ کے لیے گورنر راج نافذ کیا گیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اسد عمر نے لکھا کہ تحریک انصاف کی لیڈر شپ کو ایک ہمدرد اور سپورٹر کے طور پر میرا مشورہ ہے کہ پی ٹی آئی قیادت خیبر پختونخوا کی دیگر سیاسی جماعتوں اور مشران کے ساتھ مل کر گورنر راج کے خلاف مشترکہ مہم چلا سکتی ہے۔ یہ معاملہ کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ صوبے کے عوام کی خودمختاری کا ہے۔
انہوں نے دوسرا آپشن دیتے ہوئے کہا کہ اگر بڑی تعداد میں کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریوں کے باعث مزید کارکنوں کو مشکلات سے بچانا مقصود ہے تو پارٹی اپنا بیانیہ تبدیل کیے بغیر کچھ عرصے تک پارلیمان، میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے جدوجہد جاری رکھ سکتی ہے۔
تحریک انصاف کی لیڈرشپ کو ایک ہمدرد اور سپورٹر کے طور پر میرا مشورہ: آپ کے پاس 3 مختلف آپشنز ہیں۔ 1) پختون خواہ کی تمام سیاسی جماعتیں اور دیگر مشران جو سمجھتے ہیں کہ گورنر راج سے کسی مخصوص پارٹی کی نہیں بلکہ صوبے کے عوام کی خودمختاری چھینی گئ ہے ان کے ساتھ مل کر گورنر راج کے خلاف کیمپین چلائیں۔ 2) اگر بڑی تعداد میں ورکرز اور لیڈران کی گرفتاری کی وجہ سے مزید ورکرز کو مشکل میں نہیں ڈال سکتے، تو اپنا بیانیہ تبدیل کئے بغیر اپنی جدوجہد کو کچھ عرصہ پارلیمان، میڈیا اور سوشل میڈیا پر جاری رکھیں۔ 3) اگر نظام کا حصہ بن ہی گئے پارلیمان میں جا کر اور پختون خواہ میں حکومت بنا کر تو نظام کے ساتھ اپنی انگیجمنٹ میں اضافہ کریں اور اس کے ذریعے عمران خان، پارٹی اور ورکرز کے لئے آہستہ آہستہ دوبارہ سپیس پیدا کرنے پر کام کریں۔ یہ سوال کور اور سیاسی کمیٹی کے علاوہ پارلیمنٹرین اور تنظیمی عہدے داروں کے بھی سامنے رکھیں۔ اپنے اپنے حلقوں میں سپورٹرز کی رائے حاصل کریں۔ پھر اس مشاورتی عمل کے بعد جو فیصلہ ہو تو تمام لیڈرشپ اور ورکر یکسوئ کے ساتھ ایک آواز ہو کر اس پر جدوجہد کریں۔ جو بھی فیصلہ ہو اس کا عمران خان، باقی اسیران اور پارٹی ورکرز پر اس فیصلے کا کیا اثر ہو گا یہ آپ کے ذہن میں سر فہرست ہونا چاہئے۔ آپ انتہائی مشکل حالات میں اپنی ذمہ داری نباہ رہے ہیں۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔ خیراندیش اسد عمر
— Asad Umar (@Asad_Umar) October 20, 2026
واضح رہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں سمیت کارکنان کی بڑی تعداد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جبکہ معزول وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی بھی زیرحراست ہیں۔
’سیاسی رابطوں میں اضافہ کیا جائے‘
اسد عمر نے تیسرا راستہ بتایا کہ اگر پارلیمان میں جاکر اور پختونخوا میں حکومت بنا کر نظام کا حصہ بن ہی گئے ہیں تو نظام کے ساتھ سیاسی رابطوں میں اضافہ کیا جائے اور اس ذریعے سے عمران خان، پارٹی اور کارکنوں کے لیے بتدریج دوبارہ سیاسی گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ یہ تینوں آپشنز صرف کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی تک محدود نہ رکھے جائیں بلکہ پارلیمنٹیرینز، تنظیمی عہدیداروں اور اپنے اپنے حلقوں میں موجود حامیوں سے بھی رائے لی جائے۔
اسد عمر نے کہا کہ مشاورتی عمل کے بعد جو فیصلہ کیا جائے، اس پر تمام قیادت اور کارکنوں کو یکسو ہو کر مشترکہ جدوجہد کرنی چاہیے۔ فیصلہ کرتے وقت عمران خان، دیگر اسیران اور پارٹی کارکنوں پر اس کے ممکنہ اثرات کو سب سے زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے۔
یاد رہے کہ عمران خان، شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، سینیٹر اعجاز چوہدری سال 2023 سے جبکہ دیگر رہنما اور کارکنان بھی کئی کئی ماہ سے مختلف مقدمات میں جیلوں میں ہیں۔
اسد عمر نے پی ٹی آئی قیادت کی مشکل حالات میں ذمہ داریاں نبھانے کو سراہتے ہوئے دعا کی کہ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی صورت میں شدید احتجاج اور پلان بی کا اعلان کیا تھا تاہم وہ اپنے فیصلوں پر عملدرآمد نہ کر سکے۔


