چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے منصوبے کا اعلان کر دیا۔
رانا مشہود احمد خان نے بلوچستان کے 12 اضلاع سے شناخت کیے گئے 25 ہزار نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کراچی کی صنعتی اور کاروباری برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان میں بے روزگاری کے خاتمے، معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور پائیدار امن و خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں 6 سے 7 ہزار نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی میں مدد دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو معاشی سرگرمیوں کا حصہ بنانے اور انہیں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے حکومت اور نجی شعبے کے درمیان تعاون ضروری ہے۔
انہوں نے کراچی کی صنعتوں اور کاروباری اداروں پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں کو ملازمتوں، فنی تربیت اور عملی تجربے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے شراکت داری کریں۔
اس موقع پر کاروباری نمائندوں زبیر موتی والا اور جاوید بلوانی نے بھی روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے صنعتوں کی بحالی، نئی سرمایہ کاری اور صنعتی مسابقت بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
زبیر موتی والا کے مطابق روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے صنعتی سرگرمیوں کی بحالی اور سرمایہ کاری کا فروغ ضروری ہے، جبکہ جاوید بلوانی نے کہا کہ صنعتوں کی بندش اور برآمدات میں کمی سے بے روزگاری بڑھ رہی ہے، اس لیے صنعتی مسابقت بحال کرنا اور نئی ملازمتیں پیدا کرنا ناگزیر ہے۔
بلوچستان میں نوجوانوں کے روزگار کا مسئلہ
بلوچستان میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا صوبے کی معاشی ترقی کے اہم چیلنجز میں شامل ہے۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں صنعتی سرگرمیوں، نجی سرمایہ کاری اور مارکیٹ سے منسلک فنی تربیت کے محدود مواقع نوجوانوں کو روزگار کی تلاش میں مشکلات سے دوچار کر سکتے ہیں۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے لیبر فورس سروے 2024-25 کے مطابق بلوچستان میں 15 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد تقریباً 24 لاکھ ہے، جن میں سے لگ بھگ 9 لاکھ نوجوان افرادی قوت کا حصہ ہیں۔ اس اعدادوشمار سے صوبے میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع اور ہنر کی ترقی کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
بلوچستان میں روزگار کے منصوبوں کی کامیابی کے لیے صرف نوجوانوں کی تربیت کافی نہیں بلکہ تربیت کے بعد انہیں متعلقہ صنعتوں اور کاروباری اداروں میں ملازمتیں فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت، فنی تربیت کے اداروں اور نجی شعبے کے درمیان رابطہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
صنعتی بحالی اور سرمایہ کاری کی اہمیت
پاکستان کی معیشت میں صنعتی شعبہ روزگار کی فراہمی، برآمدات میں اضافے اور نئی سرمایہ کاری کے حصول کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے تاہم صنعتوں کو توانائی کے اخراجات، پیداواری لاگت، مالیاتی سہولتوں اور عالمی منڈیوں میں مسابقت جیسے چیلنجز کا سامنا رہتا ہے۔
زبیر موتی والا نے روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے صنعتوں کی بحالی اور سرمایہ کاری کے فروغ کو ضروری قرار دیا جبکہ جاوید بلوانی نے صنعتوں کی بندش اور برآمدات میں کمی کے باعث بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی نشاندہی کی۔ ان کے مؤقف کے مطابق صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول نئی ملازمتوں کی تخلیق میں مدد دے سکتا ہے۔
کراچی جو پاکستان کا اہم صنعتی، تجارتی اور برآمدی مرکز ہے، اس حوالے سے بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے تربیت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں کردار ادا کر سکتا ہے تاہم اس کے لیے صنعتوں کی عملی ضروریات کے مطابق نوجوانوں کی مہارتوں کو بہتر بنانا اور ملازمتوں تک ان کی رسائی یقینی بنانا اہم ہوگا۔
نوجوانوں کی مہارتوں کو مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت
وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت نوجوانوں کو روزگار، فنی تربیت اور کاروباری مواقع سے منسلک کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ پروگرام کے سرکاری فریم ورک میں تعلیم، روزگار اور نوجوانوں کی معاشی و سماجی شمولیت کو بنیادی ترجیحات قرار دیا گیا ہے۔
بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے منصوبے کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہوگا کہ تربیت کے شعبوں کا انتخاب مقامی اور قومی سطح پر موجود ملازمتوں کی طلب کے مطابق کیا جائے۔ صنعت، تعمیرات، زراعت، کان کنی، مہمان نوازی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے شعبے ممکنہ مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔
بلوچستان میں روزگار کے مواقع کی فراہمی کو معاشی ترقی اور سماجی استحکام کے تناظر میں بھی دیکھا جاتا ہے، نوجوانوں کو باعزت روزگار، کاروبار شروع کرنے کے مواقع اور پیشہ ورانہ مہارتیں فراہم کرنا ان کی معاشی خودمختاری میں مدد دے سکتا ہے۔
رانا مشہود نے کراچی کی کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ بلوچستان میں بے روزگاری اور بدامنی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں میں حصہ لے۔ ان کے مؤقف کے مطابق نوجوانوں کو معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنا صوبے میں ترقی اور خوشحالی کے لیے اہم ہے۔
تاہم روزگار کے مواقع میں پائیدار اضافے کے لیے صنعتی سرمایہ کاری کے ساتھ بنیادی ڈھانچے، تعلیم، فنی تربیت اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول کو بہتر بنانا بھی ضروری ہوگا۔



