خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر گورنر فیصل کریم کنڈی نے پولیس کو جدید آلات فراہم کرنے اور اہلکاروں کیلئے خصوصی فلاحی پیکیج متعارف کرانے کا اعلان کردیا۔
گورنر کے یہ بیانات وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پشاور میں ہونے والے ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے ایک روز بعد سامنے آئے جس میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وفاقی و صوبائی حکام نے شرکت کی۔
پشاورمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبائی انتظامیہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کیلئے درکار آلات فراہم کرے گی۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود کیلئے بھی پیکیج کا اعلان کیا جائے گا کیونکہ کئی برس سے ان کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہوا۔
فیصل کریم کنڈی کے مطابق پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری، جس کا نام حال ہی میں تبدیل کرکے فیڈرل کانسٹیبلری رکھا گیا ہے، کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔
گورنر نے کہا کہ امن اور سیکیورٹی حکومت کی اولین ترجیح ہیں اور صوبے میں امن بحال ہونے کے بعد ترقی اور خوشحالی کے اقدامات کیے جائیں گے۔
ترقیاتی منصوبوں کیلئے 160 ارب روپے کی فراہمی
فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے صوبے کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے طلب کیے گئے 160 ارب روپے فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ ضرورت پڑنے پر مزید مالی معاونت بھی فراہم کی جائے گی۔
گورنر نے بدعنوانی، سرکاری ٹھیکوں میں بے ضابطگیوں اور سیاسی بنیادوں پر تبادلوں و تعیناتیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے ازاخیل گودام میں گندم کی ہینڈلنگ سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا عزم بھی ظاہر کیا۔
انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ صوبے کے سیکیورٹی اور ترقیاتی مسائل کے حل کیلئے مل کر کام کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق کے ساتھ مطالبات تصادم کے بجائے مذاکرات اور دلائل کے ذریعے آگے بڑھائے جائیں گے۔
پولیس اور سی ٹی ڈی کی صلاحیت بڑھانے پر زور
اس موقع پر خیبر پختونخوا کی مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ ثمر ہارون بلور نے بھی پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی کی عملی صلاحیت بہتر بنانے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکار صوبے کے ہیرو ہیں اور انہیں جدید ہتھیاروں، ٹریکنگ سسٹمز، گاڑیوں اور جدید دفاعی آلات کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت نے ضرورت کے مطابق اضافی مالی اور دیگر معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ثمر ہارون بلور نے بتایا کہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں سکیورٹی اور ترقیاتی امور پر غور کیا گیا جبکہ پسماندہ علاقوں، خصوصاً باجوڑ میں دانش اسکول قائم کرنے کی تجویز بھی زیر بحث آئی۔
انہوں نے سڑکوں اور ٹریفک کے مسائل حل کرنے، آئی ٹی مراکز اور تربیتی ادارے قائم کرنے اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کیلئے ٹریکنگ نظام متعارف کرانے کے منصوبوں سے بھی آگاہ کیا۔ ان کے مطابق اس نظام کے ذریعے منصوبوں کے آغاز، متوقع تکمیل اور اصل تکمیل کے وقت کی نگرانی کی جائے گی۔
دہشت گردی کے خلاف وفاقی حکومت کا مؤقف
گزشتہ روز خیبر پختونخوا ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا دفاع کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے دوبارہ بڑھنے پر وفاقی حکومت خاموش تماشائی نہیں بن سکتی۔
انہوں نے سابق صوبائی حکومتوں پر الزام لگایا کہ خاطر خواہ وسائل ملنے کے باوجود پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو مضبوط بنانے کیلئے ضروری اقدامات نہیں کیے گئے۔
وزیراعظم نے صوبے کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورت حال سے نمٹنے میں سابق حکومتوں کے کردار کو ’مجرمانہ غفلت‘ قرار دیا اور کہا کہ شہریوں، سکیورٹی اہلکاروں اور مسلح افواج کی برسوں کی قربانیوں سے ملک میں امن بحال ہوا تھا لیکن دہشت گردی نے صوبے کو دوبارہ متاثر کیا ہے۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا پس منظر
وفاقی کابینہ کی سفارش پر 11 اکتوبر کو صدر مملکت آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی منظوری دی تھی۔
وفاقی حکومت نے اس اقدام کی وجہ صوبے میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورت حال اور پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے انسداد دہشت گردی کے اقدامات میں مبینہ عدم تعاون کو قرار دیا۔
وفاقی حکومت نے بعد ازاں 11 رکنی مشاورتی کونسل اور دہشت گردی سے متاثرہ 12 اضلاع کیلئے الگ انتظامی ڈھانچا قائم کیا۔ 17 اکتوبر کو جرگوں سے مشاورت کے بعد ان اضلاع کیلئے علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل کے 48 ارکان بھی مقرر کیے گئے۔
قومی اسمبلی اور سینیٹ نے 14 اکتوبر کو ان اقدامات کی منظوری دی،جبکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں 15 اکتوبر کو اپوزیشن کے احتجاج کے دوران 214 کے مقابلے میں 56 ووٹوں سے قرارداد منظور کی گئی۔ پی ٹی آئی نے ان اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے عدالت میں چیلنج کیا ہے اور پشاور ہائی کورٹ میں درخواستوں کی سماعت جاری ہے۔



