ایران نے رہبر اعلیٰ کے مشیر ڈاکٹر محمد مخبر نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے بجلی گھروں اور پیٹروکیمیکل تنصیبات پر حملہ کیا گیا تو جوابی کارروائی میں 9 ممالک کے بجلی گھروں اور پیٹروکیمیکل مراکز کو نشانہ بنایا جائے گا، جبکہ ایرانی پاسداران انقلاب نے بھی توانائی تنصیبات پر حملے کی صورت میں اسرائیل کے خلاف شدید کارروائی کی دھمکی دے دی۔
ایران کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے ممکنہ نتائج سے خبردار کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد مخبر نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے بجلی گھروں اور پیٹروکیمیکل مراکز پر حملہ ہوا تو اس کا جواب خطے کے 9 ممالک میں توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنا کر دیا جائے گا۔
انہوں نے 40 روزہ جنگ کے دوران قطر کے راس لفان میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی پیداوار کی تنصیب پر ایرانی حملے کا دفاع بھی کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی نے پوری دنیا کو مشکلات سے دوچار کر دیا تھا۔
Mokhber also rejected calls to relinquish control of the Strait of Hormuz to prevent further losses, comparing that argument to the 1828 Treaty of Turkmenchay, under which Iran ceded territory to Russia.
“Some people say we should give up the Strait of Hormuz so the rest of the country is not lost. The Treaty of Turkmenchay was signed using the same logic, and parts of the country were lost,” he said.
He described control of the strait as a major source of leverage, adding: “An atomic bomb explodes in one place and kills tens of thousands of people, but control of the Strait of Hormuz can affect the lives of billions.”
He also warned that if Iran’s power plants or petrochemical facilities were attacked, “we would strike nine countries,” calling this the country’s “greatest deterrent.”
Mokhber said Iran’s missile program had been central to its military strategy, arguing that slain Supreme Leader Ali Khamenei had prioritized missiles over other equipment.
“If we had even 500 F-35s instead of missiles, we could not have achieved today’s success,” he said.
— Iran International English (@IranIntl_En) October 19, 2026
واضح رہے کہ ایران نے جنوبی پارس میں اپنی توانائی تنصیبات پر حملے کے جواب میں قطر میں قدرتی گیس برآمد کرنے والی ایک بڑی تنصیب کو نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے پر قطر نے سخت احتجاج کیا، جبکہ عالمی منڈی میں توانائی کی فراہمی سے متعلق خدشات اور قیمتوں میں اضافے کے اثرات بھی سامنے آئے تھے۔
محمد مخبر نے آبنائے ہرمز سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ملک کے دیگر حصوں کو محفوظ رکھنے کے لیے آبنائے ہرمز سے دستبردار ہو جانا چاہیے۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایران کی توانائی تنصیبات پر کسی بھی حملے کا سخت جواب دیا جائے گا اور مقبوضہ علاقوں کو ’جلتا ہوا خطہ‘ بنا دیا جائے گا۔
IRGC spox: Any aggression against Iran’s energy infrastructure, although it will be immediately repaired by young scientists, will turn the occupied territories into a scorched land forever and will displace its usurpers to Sinai Peninsula.
The world will see what will happen! https://t.co/GPlGRaeP7M
— IRNA News Agency ☫ (@IrnaEnglish) October 18, 2026
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا انگلش کی جانب سے ایکس پر جاری بیان کے مطابق جنرل حسین محبی نے کہا کہ ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے کے بعد ایرانی سائنس دان ان تنصیبات کو دوبارہ بحال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم جوابی کارروائی کے نتیجے میں مقبوضہ علاقوں میں حالات انتہائی سنگین ہو جائیں گے۔ اور قابض افراد کو جزیرہ نما سینائی منتقل ہونا پڑ سکتا ہے۔



