سعودی فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کی جانب آنے والے 5 ڈرونز فضا میں تباہ کر دیے گئے ہیں۔
سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات اور دیگر اہم مقامات پر حوثیوں کے حملوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران اضافہ ہوا ہے۔
التحالف:
اعتراض وتدمير 4 مسيّرات أطلقت باتجاه المملكة. https://t.co/al37TrkC6b
— المتحدث الرسمي باسم قوات التحالف (@CJFCSpox) October 21, 2026
اتحادی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی جانب آنے والے5 ڈرونز فضا میں تباہ کئے گئے ہیں جن میں سے ایک کو مملکت کے مشرقی علاقے میں مارگرایا ہے۔
دوسری جانب یمنی حکومتی فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔ صوبہ شبوہ میں سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے تربیتی کیمپ پر حوثیوں کے حملے میں 53 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
دوسری جانب یمنی حکومتی فورسز نے 24 گھنٹوں میں حوثی ملیشیا کے 558 جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
یمنی حکومتی فورسز نے کہا کہ حوثی اکثریتی ملیشیا کی 135 فوجی گاڑیوں کو تباہ کردیا گیا ہے، صوبہ تعز میں حوثیوں کی پیش قدمی روک دی گئی ہے۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں نے مذاکرات میں مدد کی پیشکش کا تاحال جواب نہیں دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عراق کے ٹی وی چینل ’الاخباریہ‘ کو انٹرویو میں عباس عراقچی نے بتایا کہ انہوں نے فریقین کے درمیان مذاکرات اور بات چیت میں سہولت فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے سعودی عرب کے ساتھ حوثیوں کے خلاف جنگ میں مصر کی ممکنہ شمولیت سے متعلق سوال پر کہا کہ کسی بھی بیرونی مداخلت سے معاملات مزید پیچیدہ ہو جائیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق قاہرہ ماضی میں تہران کو بتا چکا ہے کہ وہ یمن کے تنازع میں براہِ راست مداخلت نہیں کرے گا۔
مصر نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ اپنی سلامتی کے دفاع کے لیے سعودی عرب کو ضروری تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس پیشکش سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب حوثی جنگجوؤں کے خلاف ممکنہ فوجی اقدام یا سعودی عرب کی مدد کے معاملے پر مصری پارلیمنٹ میں ہونے والی ووٹنگ 26 اکتوبر تک مؤخر کر دی گئی ہے۔
خیال رہے مصر کی فوج عرب دنیا کی بڑی افواج میں شمار ہوتی ہے۔



