برطانیہ نے سعودی عرب سے فوجی تعاون بڑھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے رائل ایئر فورس کے ٹائفون لڑاکا طیارے، ایک ٹرانسپورٹ طیارہ اور فوجی مشیر تعینات کرنے کا اعلان کر دیا۔
برطانوی حکومت کے اس اقدام کا مقصد سعودی فضائی حدود، شہروں اور اہم تنصیبات کو حوثی باغیوں کے میزائلوں اور ڈرون حملوں سے محفوظ رکھنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برطانوی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ ٹائفون لڑاکا طیارے سعودی عرب کے دفاع کے لیے فضائی مشن انجام دیں گے۔ برطانوی طیاروں کا کردار دفاعی نوعیت کا ہوگا تاہم وہ حوثی باغیوں کے خلاف جارحانہ فضائی حملوں میں حصہ نہیں لیں گے۔
برطانوی وزیر دفاع ویس اسٹریٹنگ نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاض کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانا ظاہر کرتا ہے کہ حوثی خطے میں کشیدگی بڑھانے کے لیے کس حد تک جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سعودی فضائی حدود کو میزائلوں اور ڈرونز سے محفوظ رکھنے کے لیے رائل ایئر فورس کے ٹائفون طیاروں کی دفاعی پروازوں کی منظوری دی گئی ہے۔
BREAKING: The UK’s Ministry of Defence says it will fly defensive air missions to support Saudi Arabia against attacks by Yemen’s Houthis. https://t.co/RXwMGiTxW4
— Al Jazeera Breaking News (@AJENews) October 20, 2026
برطانوی وزارت دفاع کے مطابق اضافی فوجی تعاون میں اٹلس اے 400 ایم ٹرانسپورٹ طیارہ اور فوجی مشیر بھی شامل ہوں گے۔ یہ اقدام ستمبر میں اعلان کردہ تعاون کو مزید وسعت دے گا، جس میں رائل ایئر فورس کا وائجر فضائی ایندھن بھرنے والا طیارہ شامل تھا۔
وزارت دفاع نے کہا کہ خلیج میں بڑھتی کشیدگی توانائی کی فراہمی، تجارتی راستوں اور برطانوی کاروباروں کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ اور قیمتوں میں اضافے کے خدشات کے پیش نظر سعودی عرب کے دفاع میں تعاون کو اہم قرار دیا گیا ہے۔
Britain says it is expanding military support for Saudi Arabia against Houthis to include “defensive” air patrols by Royal Air Force jets.
Defense Secretary Wes Streeting said the British planes won’t strike Houthi targets. https://t.co/llvlEw0vnz
— The Associated Press (@AP) October 20, 2026
برطانوی حکومت کے مطابق وہ پہلے ہی سعودی عرب کے فضائی دفاع میں معاونت فراہم کر رہی ہے، جس میں دفاعی سازوسامان اور میزائلوں و ڈرونز کے حملوں سے تحفظ کے لیے برطانوی اہلکاروں کی خدمات شامل ہیں۔ تاہم تازہ فیصلے کے ذریعے اس تعاون کو مزید بڑھایا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات اور دیگر اہم مقامات پر حوثیوں کے حملوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران اضافہ ہوا ہے، جبکہ یمن میں حکومتی فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔ گزشتہ روز صوبہ شبوہ میں سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے تربیتی کیمپ پر حوثیوں کے حملے میں 58 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور یمن اس کے دیرینہ شراکت دار ہیں اور وہ سعودی عرب کے دفاع، اہم تجارتی راستوں اور توانائی کی فراہمی کے تحفظ کے ساتھ یمن کے تنازع کے سفارتی حل کی حمایت جاری رکھے گی۔



