لائبہ اعجاز مبینہ خودکشی کیس میں نامزد زیر حراست ملزم نعمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔
واقعہ تھانہ رمنا کی حدود میں پیش آیا جہاں ملزم کو نشاندہی پربرآمدگی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ اس کے ساتھیوں نے پولیس ٹیم پر فائرنگ کردی۔
واضح رہے کہ لائبہ اعجاز سے امریکی ویزا اور اسکالرشپ دلوانے کے نام پر ملزمان نے مبینہ طور پر 93 لاکھ روپے وصول کیے اور جعلی اسکالرشپ، یونیورسٹی کے آفر لیٹرز اور فیس کی رسیدیں بھی فراہم کیں، فراڈ ثابت ہونے پر مالی نقصان اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنے والی لائبہ نے 9 اکتوبر کو مبینہ طور پر گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کرلی تھی۔
ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق پولیس ٹیم ملزم نعمان کو اس کی نشاندہی پر برآمدگی کے لیے لے کر جا رہی تھی کہ اس دوران دو موٹر سائیکلوں پرسوارچارملزمان نے پولیس ٹیم پر فائرنگ کردی، حملہ آوروں کا مقصد زیر حراست ملزم کو پولیس کی تحویل سے چھڑوانا تھا۔
پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے دوران زیرحراست ملزم نعمان اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر زخمی ہوگیا۔ پولیس نے زخمی ملزم کو فوری طور پراسپتال منتقل کیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
ترجمان کے مطابق پولیس ٹیم نے حفاظتی اقدامات کررکھے تھے اوراہلکاروں نے بلٹ پروف جیکٹس پہن رکھی تھیں، جس کے باعث فائرنگ کے واقعے میں پولیس اہلکارمحفوظ رہے۔
پولیس کی جانب سے واقعے کے بعد حملہ آوروں کی شناخت اورگرفتاری کے لیے کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پرسرچ آپریشنز جاری ہیں، پولیس حملہ آوروں کی تلاش اورانہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے کارروائی کر رہی ہے۔
حکام کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ ملزم کے ساتھیوں کی گرفتاری کے بعد فائرنگ کے واقعے اور اسے چھڑوانے کی کوشش سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔



