بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کی مبینہ خودکشی کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس کی تفتیشی ٹیم کو موصول ہو گئی ہے جبکہ مبینہ ویزا فراڈ میں گرفتار مرکزی ملزم نعمان کے بھائی وقاص سے متعلق بھی نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں لائبہ کی موت کی وجہ پھندا لگنا بتائی گئی ہے تاہم دیگر پہلوؤں کی تصدیق کے لیے نمونے فارنزک لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، حتمی رپورٹ فارنزک نتائج سامنے آنے کے بعد مرتب کی جائے گی۔
مرکزی ملزم کے بھائی کے خلاف بھی فراڈ کے الزامات
لائبہ کیس میں گرفتار مرکزی ملزم نعمان کا بھائی وقاص مانسہرہ میں فراڈ کے ایک مقدمے میں جیل میں قید ہے۔ تفتیشی اطلاعات کے مطابق نعمان اور وقاص اپنے دیگر مبینہ ساتھیوں کے ساتھ مل کر شہریوں کو دھوکہ دینے میں ملوث رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ملزم نعمان مبینہ طور پر خود کو مانسہرہ میں ایک حساس ادارے کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر ظاہر کرتا تھا، تفتیش کے دوران حساس ادارے کے نام سے منسوب مبینہ جعلی تقرری نامے بھی سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نئے انکشافات کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مانسہرہ فراڈ کیس سے متعلق بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ لائبہ کیس کی تفتیش کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔
لائبہ کے ساتھ مبینہ ویزا فراڈ کیسے ہوا؟
لائبہ اعجاز نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے فزکس میں بی ایس کی ڈگری حاصل کی تھی اور مزید تعلیم کے لیے امریکا جانا چاہتی تھیں۔ اہل خانہ کے مطابق ملزم نعمان نے انہیں امریکی یونیورسٹی میں داخلہ اور اسکالرشپ دلوانے کا وعدہ کیا تھا۔
پولیس اور ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق لائبہ کے خاندان سے امریکی ویزے، تعلیمی داخلے اور دیگر اخراجات کے نام پر لاکھوں روپے وصول کیے گئے، فراہم کردہ دستاویزات میں مبینہ جعلی ویزا کاغذات، اسکالرشپ خطوط اور یونیورسٹی فیس کی رسیدیں بھی شامل تھیں۔
12 اکتوبر کو اسلام آباد کی عدالت نے مرکزی ملزم نعمان کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا تاکہ واقعے اور مبینہ مالی فراڈ کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کی جا سکیں۔
پولیس اور ایف آئی اے کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ لائبہ کی موت کی حتمی وجہ اور واقعے کے دیگر پہلوؤں سے متعلق نتائج فارنزک رپورٹ اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوں گے۔



