وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں مبینہ ویزا فراڈ کا شکار طالبہ کے اہلخانہ سے ملاقات کی اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کو جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، جبکہ متاثرہ خاندان کو رقم واپس دلانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔
گزشتہ روز اسلام آباد کے تھانہ رمنا کی حدود میں واقع ایک درخت سے ایک لڑکی کی پھندا لگی لاش برآمد ہوئی جس کی شناخت لائبہ اعجاز کے نام سے ہوئی۔ لائبہ اعجاز نے اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی سے گولڈ میڈل کے ساتھ بی ایس کی ڈگری مکمل کی اور مزید پڑھائی کیلئے بیرون ملک جانا چاہتی تھی۔
اہل خانہ کا کہنا تھا کہ لائبہ سے طلبہ کو بیرون ملک بھیجنے والے ایک ایجنٹ نے امریکی یونیورسٹی میں داخلہ کروانے کیلئے 70 لاکھ روپے مانگے۔ اس پر خود کرائے کے فلیٹ پر رہنے والے والد نے پلاٹ بیچ کر لائبہ کو 21 لاکھ روپے کیش دیا اور بقیہ رقم کا انتظام کرنے کیلئے اپنی زوجہ یعنی لائبہ کی والدہ کا زیور گروی رکھوایا۔ جب یونیورسٹی میں داخلے کیلئے کاغذات چیک کرائے گئے تو وہ جعلی نکلے، طالبہ نے دلبرداشتہ ہو کرماموں کو آخری مسیج کیا اور مبینہ طور پر خود کشی کر لی۔
ذرائع کے مطابق لائبہ اعجاز کیس میں نامزد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ، ملزم کی گرفتاری ظاہر نہیں کی گئی ، لائبہ اعجاز قتل کیس کا ملزم دیگر کئی لوگوں سے بھی فراڈ کر چکا ہے۔
وفاقی پولیس نے مقدمہ درج کرکے ایف آئی آر سیل کر دی، پولیس ذرائع کے مطابق مقدمہ دو دفعات 322 اور 34 کے تحت درج کیا گیا ، مقدے میں ایک خاتون اور مرد کو نامزد کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد نے دفعات 419، 420 اور 109 پی پی سی بمع دفعات 18 اور 22 ایمیگریشن آرڈیننس 1979 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
طالبہ کی پراسرار موت کے ملزم کی شناخت ہو گئی
ڈائریکٹر ایف آئی اے شہزاد بخاری کے مطابق اسلام آباد میں طالبہ کی پراسرار موت کے ملزم کی ابتدائی شناخت ہوگئی ہے، ملزم نے خود کو سپریم کورٹ کا اکاؤنٹنٹ ظاہر کیا، تاہم وہ نہ تو ایجنٹ تھا اور نہ ہی اسٹڈی کنسلٹنٹ۔ ان کے مطابق اس فراڈ میں ایک خاتون بھی مبینہ طور پر ملوث ہے۔
شہزاد بخاری نے بتایا کہ ملزم کے حوالے سے ڈیٹا حاصل کرلیا گیا ہے، ملزمان کے نام اسٹاپ لسٹ میں شامل کردیے گئے ہیں جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں۔
محسن نقوی اور طلال چوہدری کی طالبہ کے اہلخانہ سے تعزیت، انصاف کی فراہمی کا وعدہ
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری جی 10 میں متوفیہ طالبہ لائبہ کی رہائش گاہ پہنچے، جہاں انہوں نے طالبہ کے والد اور اہلخانہ سے ملاقات کی اور المناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری نے متوفیہ طالبہ کی روح کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی اور سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔
اس موقع پر محسن نقوی نے اہلخانہ کو ہر صورت انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ لائبہ کی موت کے دلخراش واقعے پر ہر آنکھ اشکبار ہے۔ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنا ہمارا فرض بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ واقعے کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور ملزم قانون کے تحت سخت سزا سے نہیں بچ سکے گا۔ واقعے کی ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے جبکہ پولیس کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پولیس واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے اور حقائق سامنے لائے جائیں گے۔ انہوں نے سوگوار خاندان کو یقین دلایا کہ انہیں انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
ملاقات کے موقع پر چیف کمشنر اسلام آباد، ڈی آئی جی، ایس ایس پی آپریشنز اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔



