مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا ثمر بلور نے صوبے میں صحت کارڈ ختم کیے جانے کی خبریں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر سے منسوب بیان بے بنیاد ہے۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے انتظامی امور چلانے میں گورنر کی معاونت کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم کی گئی ہے جس میں ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر کو صحت کا شعبہ تفویض کیا گیا ہے۔
ثمر بلور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ صحت کارڈ کے حوالے سے چند عناصر پراپیگنڈا پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں،پروفیسر نوشیروان برکی کی معطلی کا نوٹیفکیشن بھی جعلی ہے۔
As usual fake , malicious propaganda being spread against a person of great integrity. These old tricks are now past their expiry date https://t.co/kDdumY1mF4
— Samar Haroon Bilour (@SamarHBilour) October 13, 2026
ثمر بلور نے واضح کیا کہ ہم کسی بھی قسم کی انتقامی کارروائی نہیں کریں گے۔خیبرپختونخوا کے عوام کی خدمت اور شفاف کارکردگی ہماری اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام کے مفاد میں تمام فلاحی منصوبے جاری رکھیں گے، کہیں بھی غفلت یا بے ضابطگی سامنے آئی تو بلاامتیاز احتساب ہوگا۔
صحت کارڈ پلس پروگرام کیا ہے؟
خیبر پختونخوا حکومت کا صحت کارڈ پلس پروگرام صوبے کے شہریوں کو مفت علاج کی سہولت فراہم کررہا ہے،پروگرام کے تحت فی خاندان سالانہ 10 لاکھ روپے تک کی طبی کوریج دستیاب ہے جس کا مقصد شہریوں کو معیاری طبی سہولیات تک رسائی دینا اور علاج کے بھاری اخراجات سے بچانا ہے۔
صحت کارڈ پلس پروگرام کے تحت صوبے کے اہل شہریوں کو سرکاری اور نجی شعبے کے پینل اسپتالوں میں علاج کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ یہ پروگرام اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان کے اشتراک سے چلایا جا رہا ہے جس کے ذریعے مستحق افراد کو منظور شدہ طبی سہولیات اور علاج تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔
پروگرام میں مختلف نوعیت کے امراض کے علاج کو شامل کیا گیا ہے جن میں ہنگامی طبی امداد، ثانوی اور پیچیدہ امراض کا علاج، گردوں کی پیوندکاری اور کینسر کا علاج سمیت دیگر طبی سہولیات شامل ہیں۔پروگرام کا مقصد ایسے مریضوں کو مالی مشکلات سے تحفظ فراہم کرنا ہے جنہیں مہنگے علاج یا اسپتال میں داخلے کی ضرورت پیش آتی ہے۔
صحت کارڈ پلس پروگرام کے تحت علاج کے لیے اہل افراد کی شناخت نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ڈیٹا کی مدد سے کی جاتی ہے جبکہ پینل اسپتالوں میں منظور شدہ علاج کی ادائیگی کیش لیس نظام کے تحت کی جاتی ہے۔ اس طریقہ کار کا مقصد علاج کے عمل کو شفاف بنانا اور اہل شہریوں پر علاج کے اخراجات کا براہِ راست بوجھ کم کرنا ہے۔


